ایران کا شمالی عراق میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کو خط

سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے تاکید کی کہ سفارت کاری سے شمالی عراق میں دہشت گردوں کی موجودگی ختم نہیں ہوئی، ناگزیر طور پر فوجی طاقت کا استعمال کیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے شمالی عراق میں دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانوں پر حملوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک خط لکھا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے نے تاکید کی کہ یہ دیکھتے ہوئے کہ ایران کے عوام اور قومی سلامتی کے خلاف دہشت گرد گروہوں نے تباہ کن اور انتشار انگیز اقدامات کیے اور اس سلسلے میں بارہا انتباہات اور احتجاج کو نظر انداز کیا گیا لہذا ہمارے ملک کے پاس اپنا حق استعمال کرنے اور دہشت گردانہ حملوں کا مناسب جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چیئرمین کو لکھے گئے خط میں ایران کے نمائندے نے شمالی عراق میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف فوجی کارروائی کی وجوہات اور محرکات کی وضاحت کی ہے۔

خط میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے۔ عراق کے شمالی علاقوں میں دہشتگرد اور علیحدگی پسندہ گروہ جیسے کردستان ڈیموکریٹک پارٹی، کوملہ، پژاک اور پاک گروپ عراق کی سرزمین کو ایرانی شہریوں اور ملک کے بینادی ڈھانچے کیخلاف دہشتگردانہ اور مسلح حملوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا خبردار کیا ہے کہ دہشت گردی ایران، حکومت عراق اور ترکی سمیت پورے خطے کے لیے مشترکہ خطرہ ہے اور ایرانی حکام نے بارہا عراق کے کردستان میں ایران مخالف دہشت گرد گروہوں نیز صیہونیوں کے فوجی اڈوں کی موجودگی کی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ایران نے عراقی مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ عراقی کردستان کے حکام سے بارہا کہا کہ دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں کو ایران برداشت نہیں کر سکتا اور ان گروہوں کو غیر مسلح کیا جانا چاہیے اور ان کے ٹھکانوں کو ختم کرنا چاہیے۔

اقوام متحدہ مٰیں ایرانی مشن نے مزید کہا کہ حملوں کے حالیہ دو دور دہشت گرد گروہوں کے ایجنٹوں کی جانب سے ایران کی سرحدوں پر حالیہ جارحیت سے ایران کو مشتعل کرنے کے بعد ہوئے۔

News Code 1912646

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha