یورپی ممالک اپنے مفادات کو امریکی مفادات اور پالیسیوں پر قربان نہ کرے، علی باقری کنی

ایرانی اعلیٰ مذاکرات کار نے کہا کہ امریکہ کے دباؤ میں آکر یورپ والے اپنے مفادات کو نہ بھولیں جبکہ اگر یورپی یونین دوہرے رویے کے ساتھ عجلت پر مبنی اور غیر منطقی اقدام کرنا چاہتی ہے تو اسے اسلامی جمہوریہ ایران کے موثر اور جوابی اقدام کا انتظار کرنا پڑے گا۔

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ڈپٹی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور اور اعلیٰ مذاکرات کار علی باقری کنی نے جمعرات کے روز ہنگری کے دار الحکومت بڈاپسٹ میں متعدد ذرائع ابلاغ کے عہدیداروں اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے ہنگری کے دو روزہ دورے کی پیش رفت کے حوالے سے کہا کہ اس دورے میں ہنگری کے حکام سے ملاقات کے دوران سیاسی، اقتصادی اور پارلیمانی شعبوں میں قابل قدر معاہدے طے پائے۔ سیاسی حوالے سے ہنگری کے سیاسی اور پارلیمانی حکام کے ساتھ یورپ اور مغربی ایشیا کی سیکورٹی سمیت دونوں ممالک کی دلچسپی کے امور کے بارے میں مشاورت کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ اپنے ہنگری کے ہم منصب کی دعوت کے جواب میں آئندہ دو ماہ میں بڈاپسٹ کا دورہ کریں گے۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ معیشت کے حوالے سے اقتصادی حکام سے ملاقات ہوئی، ہنگری کے اقتصاد میں سرگرم افراد کے ساتھ اجلاس ہوا اور دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا اور طے پایا کہ ایران اور ہنگری کا مشترکہ اقتصادی کمیشن تقریباً ایک ماہ میں بڈاپسٹ میں منعقد ہوگا۔ پارلیمانی تعاون کے شعبے میں طے پایا کہ ہنگری کی طرف سے پہلی فرصت میں دونوں ملکوں کا پارلیمانی دوستی گروپ ایران روانہ ہو گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے سیاسی نائب نے کہا کہ یورپ میں جنگ کے حوالے سے دونوں فریقوں کے درمیان مفید مشاورت ہوئی جس کی بنیاد پر یہ واضح کیا گیا کہ جیسا کہ ایران پابندیوں کو استحکام اور امن کی بنیاد کے طور پر نہیں دیکھتا، اس کا اصرار ہے کہ یورپ کے رویے کو فوجی راستے سے اپنا ٹریک بدل کر سیاسی راستے پر آنا ہوگا۔ پابندیوں کے خاتمے کے مذاکرات کے حوالے سے بھی ہنگری کے حکام کو مذاکراتی عمل میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔

باقری نے ایران کے روس اور چین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بڈاپسٹ کے ایک میگزین کے نامہ نگار کے سوال کے جواب میں کہا کہ ایران دوسرے ملکوں کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے کسی محدودیت کا قائل نہیں ہے تاہم ایسے حالات میں کہ جب یورپ والے ایرانی فریقوں کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے باوجود اور صرف امریکی دباؤ کی وجہ سے یورپی اقوام کے مفادات پر امریکہ کے مفادات کو ترجیح دے کر اپنے ہی مفادات کو پامال کرتے ہیں اور نتیجتاً ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو شدت کے ساتھ کم کردیتے ہیں، ایران ہاتھ باندھے نہیں رہے گا اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یورپ والوں کا خیال تھا کہ انہوں نے ایران سے تیل کی درآمدات بند کر کے ایران پر دباؤ ڈالا ہے تاہم آج جب ایرانی تیل کے خریداروں کی مانگ ایران کی موجودہ پیداواری صلاحیت سے زیادہ ہوگئی ہے اور یورپ میں جنگ کی وجہ سے اور توانائی کے ذرائع کی کمی کے نتیجے میں یورپ والوں کو اپنی توانائی کی فراہمی کوئلے کے ذریعے تلاش کرنا پڑ رہی ہے، عین ممکن ہے کہ وہ امریکہ کی اندھی تقلید کرتے ہوئے ایرانی قوم کے ساتھ محاذ آرائی میں اپنی تزویراتی غلطی کا احساس کر چکے ہوں۔ .

باقری کنی نے اپنی گفتگو میں ایک اور جگہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) میں ایران کی شمولیت کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ایران کی علاقائی اور بین الاقوامی اسٹریٹجک صلاحیتوں کے لیے بین الاقوامی برادری کی ضرورت اس تنظیم میں اس کی منظوری کی بنیادی وجہ ہے۔

ایران کے سیاسی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ شنگھائی ایک سیاسی، سیکورٹی اور تزویراتی تنظیم ہے۔ خطے میں ایک اہم اور بااثر ملک کی حیثیت سے اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں امن و استحکام کے قیام اور مضبوطی کے لیے تمام دستیاب صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ دنیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ یکطرفہ پن ہے۔ اس لیے آج دنیا میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے ہمیں یکطرفہ پن کو پس پشت ڈال کر کثیرالجہتی کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔

باقری نے مزید کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس گروپ موجودہ دنیا کی اس اسٹریٹجک ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اہم اوزار اور طریقہ کار ہیں۔ ایران کی ان دو بین الاقوامی گروپوں میں شمولیت سے کثیرالجہتی کو تقویت مل سکتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران ان ملکوں کے درمیان واقع ہے جو کئی سالوں سے عدم استحکام اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ایران کے مشرق میں افغانستان ہے جو 20 سال سے زائد عرصے سے بد امنی اور عدم تحفظ کا شکار ہے، ایران کے مغرب میں عراق اور شام پائیدار استحکام سے محروم ہیں، ان حالات میں صہیونی حکومت کی ذات اور پالیسیوں سے پیدا ہونے والے بد امنی اور عدم تحفظ کو بھی بڑھا دیں۔ یہ ایران کے محل وقوع اور پوزیشن کا ایک کلی منظر ہے۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ اس صورتحال میں ایران نے ان تمام سالوں میں خطے میں استحکام اور سلامتی پیدا کرنے والا کردار ادا کیا ہے اور اسی وجہ سے دیگر علاقائی اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کو ایران کے کردار کی ضرورت ہے۔ اسی ضمن میں ہم دیکھتے ہیں کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی رکنیت کو 18 سال لگ گئے لیکن ایک سال سے بھی کم عرصے میں اور صرف چند مہینوں میں ایران کی برکس گروپ میں شمولیت کی درخواست قبول کر لی گئی۔

News Code 1912584

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha