ہم ایک آزاد ملک بنانا چاہتے ہیں/امریکا سے دوستی چاہتا ہوں لیکن غلامی ہرگز نہیں، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ایک غلام قوم کبھی اوپر نہیں آسکتی کیونکہ غلام صرف اچھے غلام بنتے ہیں اس لیے میں امریکا سے غلامی نہیں دوستی چاہتا ہوں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی میڈیا سے نقل کیاہےکہ پاکستان کے شہر لاہور کے ہاکی اسٹیڈیم میں حقیقی آزادی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ آج لاہور جس طرح اسٹیڈیم میں جشن آزادی منانے آیا انہیں مبارکباد دیتا ہوں، وہ ملک خوش قسمت ہے جس میں ایسے باشعور اور جنونی نوجوان ہوتے ہیں اور جس کی مائیں اور بہنیں آزادی کا جذبہ رکھتی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ اسلام تلوار سے نہیں پھیلا، پہلے ذہنوں کے اندر انقلاب آیا تھا، ہم نے اپنے نبی ص کی سیرت پرچلتے ہوئے نوجوانوں کو پہلے ذہنی طور پر آزاد کرنا ہے، پاکستانیوں آج کل آپ پر خوف طاری کیا جارہا ہے، خوف کی غلامی سب سے خوفناک غلامی ہے، مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ کربلا میں ہوا، کوفہ کے لوگوں کو پتا تھا حضرت امام حسینؑ راہ حق پرہیں، کوفہ کے لوگوں نے یزید کے خوف کی وجہ سے حضرت امام حسینؑ کی مدد نہیں کی بعد میں پچھتائے، تیسرا خوف یہ ہے نوکری یا کاروبار نہ ختم ہو جائے، ان تین خوف کی وجہ سے انسان راہ حق پر چلنے سے ڈرتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ آج میں نے حقیقی آزادی کا روڈ میپ دینا ہے، ہم نے حقیقی آزادی حاصل کرنے کیلئے کیا قدم اٹھانے ہیں پوری قوم کو وہ راستہ بتاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ 4 قسم کی غلامی ہوتی ہے، قائداعظم محمدعلی جناح نے ہمیں ایک غلامی سے آزادی دلوائی، انہوں نے کہا تھا ہم انگریز کی غلامی سے نکل کر ہندوؤں کی غلامی میں نہیں جانا چاہتے، ہم ایک آزاد ملک بنانا چاہتے ہیں اور مسلمان ہمیشہ آزادی کیلئے جدوجہد کرتا ہے، جب پاکستان بن رہا تھا تو ایک نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ۔

عمران خان نے کہا کہ ہم کلمہ پڑھتے ہیں تو اللہ سے وعدہ کرتے ہیں، اے اللہ تیرے علاوہ کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے، شروع میں ہمیں بتایا گیا کہ پتھروں کے آگے جھکنا شرک ہے، جب بھی ضمیر کا سودا کرکے جھوٹے خدا کے سامنے جھکتے ہو تو شرک کرتے ہو۔

انہوں نے کہا کہ خوف بھی ایک غلامی ہوتی ہے، لاکھوں قربانیوں کے بعد پاکستان بنا، جو قوم غلامی کرتی ہے اس کی عزت نفس ختم اور احساس کمتری ڈال دیتی ہے، ایسی احساس کمتری تھی کہ پاکستانی انگریز بننا چاہتے تھے، یہ غلامی تھی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ کرکٹ کے دنوں میں میرے سینئر پلیئر کہتے تھے کہ سوچو بھی نہ کہ ہم انگریز کو ہرا سکتے ہیں، کہتے تھے شکر کرو عزت سے ہار کر آگئے، یہ احساس کمتری تھی، بڑے بڑے میچز احساس کمتری کی وجہ سے ہار جایا کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ذہنی طور پر ہم آزاد ہوئے تو ہم نے ہارے ہوئے میچ بھی جیتے، آج پاکستان کا بھی یہ ہی حال ہے، احساس کمتری سے ہم اب تک نہیں نکلے، پہلی غلامی سے تو ہمیں قائداعظم نے آزاد کرایا، 3 مزید قسم کی غلامی ہے جن سے ہمیں چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ دوسری قسم کی غلامی ذہنی ہے، ہم نے نبی (ص) کی سیرت پر چلتے ہوئے اپنے ملک کے نوجوانوں کو ذہنی طور پر آزاد کرنا ہے، نبیﷺنے انسانوں کو بتایا خوف کی غلامی سب سے خوفناک ہے، آج کل پاکستانیوں پر خوف کی غلامی طاری کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا خوف کاروبار، رزق اور نوکری جانے کا ہوتا ہے، انسان سمجھتا ہے کہیں میری نوکری یا کاروبار نہ چلا جائے، سیاست میں آیا تو پڑھے لکھے اور ایماندار لوگ کہتے تھے سیاست ہمیں گندا کردے گی، 26 سال سے میری کردارکشی کی جارہی ہے، لیکن اللہ کی شان دیکھیں آج بڑی تعداد میں لوگ آئے ہیں اور حوصلہ افزائی کررہے ہیں، اللہ قرآن میں کہتے ہیں عزت اور ذلت ان کے ہاتھ میں ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پیسوں والے لوگ عزت خرید سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہے، زندگی اور موت بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے، جو شخص موت سے ڈرتا ہے وہ آج تک کوئی بڑا کام نہیں کرسکا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا تلوار سے انقلاب نہیں آیا تھا، فکری انقلاب ذہنوں سے آیا تھا، ہمارے لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ تلوار سے اسلام پھیلا ہے۔

News Code 1911991

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha