آل سعود کی اکثر دہشت گرد گروہوں کو حمایت حاصل ہے

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بری فوج کے سربراہ جنرل محمد پاکپور نے ایران کے مشرقی علاقہ میں سپاہ کی تین روزہ مشقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود امریکہ کی سرپرستی میں اکثر دہشت گرد گروہوں کی حمایت کررہے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی  کے نامہ نگآر کی رپورٹ کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بری فوج کے سربراہ جنرل محمد پاکپور نے ایران کے مشرقی علاقہ میں سپاہ کی تین روزہ مشقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود امریکہ کی سرپرستی میں اکثر دہشت گرد گروہوں کی حمایت کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سپاہ کی فوجی مشقوں کا آغاز رواں ہفتہ میں ہوگا یہ مشقیں صوبہ کرمان، صوبہ سیستان و بلوچستان، صوبہ خراسان جنوبی اور صوبہ ہرمزگان میں ہوں گی۔ انھوں نے کہا کہ ان مشقوں کا مقصد فوجی توانائيوں میں مہارت اور جدید ہتھیاروں کے تجربات حاصل کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے بعض ہمسایہ ممالک کا سرحدوں پر کوئی خاص کنرول نہیں ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت آمادہ اور تیار رہیں ۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان سے ملحقہ سرحد پر افغانستان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے کیونکہ افغانستان داخلی مشکلات سے دوچار ہے اسی طرح بعض دیگر ہمسایہ ممالک کی سرحدوں پر بھی کوئی خاص کنٹرول نہیں ہے لہذا ہمیں اپنی سرحدوں کی حفاظت اور دراندازی کو روکنے کے لئے ہمہ وقت چکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

جنرل پاکپور نے کہا کہ ایران کے اندر بعض دہشت گرد گروہ موجود ہیں جنھیں غیر ملکی عناصر یا ممالک کی مدد حاصل ہے جب دہشت گردوں  کے بعض عناصر گرفتار ہوتے ہیں تو وہ سب کچھ بتادیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہماری  معاند اور دشمن گروہوں پر مکمل اور کڑي ںظر ہے۔ بعض گرفتار شدہ دہشت گردوں نے اعتراف کیا ہے کہ انھیں خلیج فارس کے بعض ممالک کی مالی حمایت حاصل ہے ۔ بعض دہشت گرد گروہوں کو باقاعدہ سعودی عرب اور امارات کی طرف سے مسلح کیا جاتا ہے لیکن ہم انھیں فوری طور پر گرفتار کرکے دشمن کے منصوبے کو ناکام بنادیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اور امارات کا امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون ہے اور امریکہ کی سرپرستی میں بعض خلیجی ممالک بھی ایران کے خلاف معاندانہ سرگرمیوں ميں ملوث ہیں۔ خلیج فارس کے عرب ممالک امریکہ کو اپنا منجی تصور کرتے ہیں ان کا اللہ تعالی کی ذات پر کوئی ایمان اور یقین نہیں ہے۔

News Code 1863206

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 10 =