22 ستمبر، 2026، 8:38 AM

ایران اور پاکستان کی سرحدیں 24 گھنٹے کھلی رہیں گی، کوہک میں نیا بارڈر بھی کھولا جائے گا

ایران اور پاکستان کی سرحدیں 24 گھنٹے کھلی رہیں گی، کوہک میں نیا بارڈر بھی کھولا جائے گا

ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ایران اور پاکستان کے درمیان گہرے اور اہم تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے تحت موجودہ سرحدی گزرگاہوں کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کے ساتھ کوہک کے مقام پر ایک نئی سرحدی گزرگاہ بھی کھولی جائے گی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ اس ملاقات کا بنیادی مقصد پاکستان کے گزشتہ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر پیش رفت کا جائزہ لینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران ایران اور پاکستان کے تعلقات مزید اہم اور مضبوط ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے حکام مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ایران کا پاکستان کے ساتھ تعلقات صرف کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں وسیع اور اچھے روابط قائم ہیں۔

ایرانی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی گزشتہ ملاقاتوں کے دوران طے پانے والے کئی معاہدوں پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے۔ ہماری قلیل اور درمیانی مدت کی ترجیح دوطرفہ تجارت کا حجم 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے اور ان شاء اللہ یہ ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔

مومنی نے کہا کہ پاکستان کے وزیر داخلہ کے دورہ ایران کے دوران دیگر طے شدہ معاہدوں پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ ایران اور پاکستان خطے کے دو بڑے اور بااثر ممالک ہیں، اس لیے اس دورے کے دوران علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ایرانی وزیر داخلہ نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے وزرائے داخلہ کے اجلاس سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ گزشتہ سال 12 روزہ جنگ کے بعد ای سی او کے وزرائے داخلہ کا اجلاس تہران میں منعقد ہوا تھا، جہاں فیصلہ کیا گیا کہ اگلا اجلاس پاکستان میں ہوگا۔ اسی فیصلے کے تحت آئندہ ماہ ای سی او کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ کا اجلاس پاکستان میں ہوگا، جس میں وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی نمائندگی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دورے کے دوران اجلاس کے علاوہ ہونے والی ملاقاتوں میں ایران اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات سے متعلق امور بھی یقینی طور پر زیر بحث آئیں گے۔

مومنی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ قریبی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاملات اچھی طرح آگے بڑھ رہے ہیں اور 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت کے ہدف کے حصول کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اگر کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو اسے فوری طور پر حل کیا جائے گا۔

ایرانی وزیر داخلہ نے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی صورتحال کے بارے میں کہا کہ اس وقت دو سرحدی گزرگاہیں فعال ہیں، جنہیں 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد مقررہ اوقات میں روزانہ کم از کم 2 ہزار ٹرکوں کی آمدورفت یقینی بنانا ہے تاکہ 10 ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضروری بنیادی ڈھانچہ تیار کرلیا گیا تو کوہک میں ایک اور سرحدی گزرگاہ بھی کھول دی جائے گی۔

مومنی نے ایران میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو ہم آہنگ کرنے کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ سرحد پر ٹرینوں سے سامان اتار کر دوبارہ ٹرکوں میں منتقل کرنے کی ضرورت ختم ہوجائے۔

انہوں نے کہا کہ میں اور میرے پاکستانی ہم منصب ہر ہفتے تین سے چار مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کرکے مسائل اور رکاوٹوں کے حل کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کہا کہ ایران آکر انہیں بہت خوشی ہوئی ہے اور انہیں ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے وہ اپنے ہی دفتر میں موجود ہوں۔

انہوں نے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

نقوی نے کہا کہ دوطرفہ تعاون کے حوالے سے اسلام آباد میں بھی ہماری تفصیلی بات چیت ہوئی تھی اور آج تہران میں بھی مختلف امور، بالخصوص سرحدی تعاون، پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

پاکستانی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ملاقات میں وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے امن کے عمل اور اسے آگے بڑھانے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

محسن نقوی نے دونوں ممالک کی جانب سے تعلقات کے فروغ کے لیے مثبت سوچ کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ای سی او کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ کے اجلاس سے قبل اسکندر مومنی کے دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں دوطرفہ امور پر مزید پیش رفت ہوگی۔

News ID 1941558

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha