مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ یو ایس ایس ابراہام لنکن کو درپیش رسد سے متعلق مشکلات جنگ کے پہلے ہی روز شروع ہوگئی تھیں، جب ایران نے تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے جواب میں بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے کے اہم حصوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق، بحرین میں موجود اس اہم اڈے کو نقصان پہنچنے کے نتیجے میں امریکی بحریہ کا ایک بڑا رسدی مرکز بھی متاثر ہوا، جس پر امریکی بحریہ کئی دہائیوں سے انحصار کرتی رہی تھی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، بحرین کے رسدی مرکز کے متاثر ہونے کے بعد امریکی بحریہ کو یو ایس ایس ابراہام لنکن پر تعینات اہلکاروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل انتظامات کرنا پڑے۔ ایران کی جانب سے خطے کی دیگر بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کے خدشے کے باوجود امریکی محکمہ دفاع نے برطانوی کنٹرول میں موجود جزیرہ ڈیگو گارسیا کو متبادل رسدی مرکز کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیگو گارسیا جزیرہ مالدیپ کے جنوب میں واقع ہے اور خلیج عمان میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے دونوں جنگی گروپوں کی سرگرمیوں کے مقام سے تقریبا 2200 میل دور ہے۔ تاہم، کچھ عرصے بعد اس اڈے کو بھی میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، بحرین میں موجود رسدی مرکز سے محرومی کے باعث ایران کے خلاف کارروائیوں میں مصروف امریکی معاون بحری جہازوں کو درپیش مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔ اسی صورتحال پر امریکی ڈیموکریٹ سینیٹرز نے یو ایس ایس ابراہام لنکن کے تقریبا 5000 اہلکاروں کی طویل تعیناتی اور ان کے حالات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ریاست کنیکٹیکٹ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومنتھال نے امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹ کو ارسال کردہ ایک خط میں کہا ہے کہ رپورٹ ہونے والی مشکلات میں بنیادی ضروری اشیا کی قلت اور جہاز کے عملے کی ذہنی صحت میں بگاڑ بھی شامل ہے۔
آپ کا تبصرہ