مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی بحریہ کے حکام نے طیارہ بردار جہاز روزویلٹ کی آئندہ ہفتوں میں خطے میں تعیناتی کی تصدیق کی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکی بحریہ کو خطے میں موجود طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن سے متعلق بحران کے اثرات کا سامنا ہے۔
ابراہام لنکن نے اپنے حالیہ مشن کے دوران 250 سے زائد دن سمندر میں گزارے اور اس دوران ایک مرتبہ بھی کسی بندرگاہ پر لنگر انداز نہیں ہوا۔ اس طویل مشن کے باعث جہاز پر موجود ملاحوں کی ذہنی صحت، بعض اہلکاروں کی خودکشی کی کوششوں اور ضروری سامان و آلات کی کمی سے متعلق خدشات سامنے آئے۔
امریکی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈیرل کیڈل نے ایران کے خلاف جنگ کے باعث امریکی بحری بیڑے پر پڑنے والے دباؤ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بحریہ آئندہ مشنز کے اوقات کار کے حوالے سے زیادہ یقین دہانی پیدا کرنے کی کوشش کرے گی، تاہم جنگی ضروریات اس مقصد کے حصول کو مشکل بنا سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن نے گزشتہ ہفتے ابراہام لنکن کی جگہ سنبھالی ہے، جبکہ توقع ہے کہ بحران سے متاثرہ لنکن آنے والے دنوں میں تھائی لینڈ کی ایک بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگا۔
آپ کا تبصرہ