27 اگست، 2026، 3:40 PM

تہران میں 40ویں بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس کا آغاز، 600 ملکی و غیر ملکی مہمانوں کی شرکت

تہران میں 40ویں بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس کا آغاز، 600 ملکی و غیر ملکی مہمانوں کی شرکت

40ویں بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس تہران کے سمٹ ہال میں صدر مسعود پزشکیان اور اسلامی دنیا کے ممتاز علما و دانشوروں کی شرکت سے شروع ہوگئی، کانفرنس کا مرکزی موضوع "شہید آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کے افکار میں اسلامی وحدت" ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں 40ویں بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس کا آغاز ہوگیا۔ کانفرنس جمعرات کو تہران کے سمٹ ہال میں صدر مملکت مسعود پزشکیان اور اسلامی دنیا کے ممتاز علما اور دانشوروں کی موجودگی میں شروع ہوئی۔

اس سال کانفرنس کا انعقاد "شہید امام آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کے افکار میں اسلامی وحدت" کے عنوان سے کیا جارہا ہے۔

مجمع جهانی تقریب مذاهب اسلامی کے سیکرٹری جنرل حجت الاسلام حمید شہریاری نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان اور اندرون و بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کی اس اہم کانفرنس میں شرکت کا خیرمقدم کیا۔

شہریاری نے گزشتہ ایک سال کے دوران پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم واقعہ وہ جنگ تھی جو امریکہ اور دہشت گرد صہیونی حکومت نے ایرانی قوم کے خلاف مسلط کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ جنگ ایران کے خلاف چھ ماہ تک جاری رہی، کیونکہ عالمی استکبار ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خوفزدہ ہے اور کسی حریف کی طاقت کو برداشت نہیں کرسکتا۔ ایک مضبوط ایران اسلامی ممالک اور مظلوم اقوام کے لیے ایک نمونہ ہے۔

ایران کے خلاف امریکی دشمنی کا ذکر کرتے ہوئے حجت الاسلام شہریاری نے کہا کہ ایران کے دشمن نہیں چاہتے کہ ملک جوہری توانائی، میزائل طاقت، جدید بنیادی ڈھانچے، تیل، سائنس دانوں، بہادر فوجیوں، مضبوط حکومت اور نظام اور حتی کہ مضبوط قیادت کا حامل ہو، کیونکہ ان میں سے ہر ایک عنصر اسلامی قوم کے قومی اتحاد اور مزاحمت کو مضبوط بناتا ہے۔

انہوں نے 28 فروری کو ہرمزگان کے جنوبی شہر میناب میں شجرہ طیبہ ایلیمنٹری اسکول پر امریکی حملے کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں اسکول کے 168 سے زائد طلبہ اور اساتذہ شہید ہوئے تھے۔ شہریاری نے امریکہ سے سوال کیا کہ میناب اسکول کے معصوم طلبہ کو شہید کرنے سے اسے کیا فائدہ حاصل ہوا؟ اور مغربی ذرائع ابلاغ اس سوال کے سامنے خاموش کیوں رہے؟

حجت الاسلام شہریاری نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران امریکی پالیسیوں کی ناکامی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کے باوجود امریکی حکومت اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکی، کیونکہ شہید رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں ایران خطے کی پہلی طاقت بن گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی سائنس دان ٹیکنالوجی کی سرحدوں تک پہنچے، نوجوانوں نے میزائل اور اسٹریٹجک ڈرون تیار کیے، جبکہ ایرانی افواج اور فوجیوں نے دنیا کی سب سے بڑی فوج کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا، خطے میں امریکی اڈوں کو تباہ کیا اور دنیا بھر کے آزادی پسندوں کو ظالموں کے خلاف مزاحمت کا سبق دیا۔

مجمع جهانی تقریب مذاهب اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے خطے کے ممالک کے لیے امریکہ کی موجودگی کے تلخ تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک سمجھ چکے ہیں کہ امریکہ کی موجودگی مزید مسائل پیدا کرتی ہے، لہذا سلامتی صرف خطے کے ممالک خود ہی یقینی بنا سکتے ہیں۔

40ویں بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں تقریباً 600 ملکی و غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی۔ ان میں اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والی ممتاز علمی، ثقافتی اور مذہبی شخصیات، جن میں عراق، پاکستان، ترکی، لبنان، افغانستان اور خلیج فارس کے ممالک کے نمائندے شامل تھے، کے علاوہ تہران میں مقیم متعدد سفیر اور بزرگ دینی مراجع کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

News ID 1940927

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha