مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے مشرق وسطی میں قائم امریکی خفیہ تنصیبات اور نگرانی کے نظام کو بے مثال نقصان پہنچایا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق ان حملوں میں امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی اور دیگر امریکی خفیہ اداروں کے زیر استعمال عمارتوں اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے والے آلات کو نقصان پہنچا۔
ان تنصیبات کی مرمت یا تباہ شدہ آلات کی تبدیلی پر اربوں ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔ امریکی خفیہ اداروں کو پہنچنے والے نقصان کو ماضی میں ہونے والے تمام نقصانات سے زیادہ قرار دیا گیا ہے۔
مشرق وسطی میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ حملے شروع کیے۔ اس کے جواب میں تہران نے ان ممالک میں موجود امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا جہاں امریکی تنصیبات موجود تھیں۔
ایران اور امریکا نے پاکستانی ثالثی کے ذریعے جون کے وسط میں جنگ کے خاتمے اور مستقل امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔
تاہم اس یادداشت کی شرائط اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی برآمدات کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔
آپ کا تبصرہ