مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ آرمینیا کے سابق صدر رابرٹ کوچاریان کو ان کے دورِ صدارت میں کرپشن کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
آرمینیا کے اٹارنی جنرل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کوچاریان، جو 1998ء سے 2008ء تک آرمینیا کے صدر رہے، نے اپنے سرکاری عہدے کا استعمال سرکاری املاک کو اپنے اور اپنے قریبی ساتھیوں کی ملکیت میں منتقل کرنے اور ان اثاثوں کے اصل ذرائع کو چھپانے کے لیے کیا۔
آرمینیا کے موجودہ وزیرِ اعظم نکول پاشینیان نے جون میں دوبارہ انتخابات میں کامیابی کے بعد ایک ایسا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جسے ان کے ناقدین حکومت کے سخت مخالفین کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن قرار دیتے ہیں۔ ان مخالفین میں اپوزیشن سیاست دان، کلیسائی رہنما اور سول سوسائٹی کے گروہ شامل ہیں۔
آرمینیائی کلیسا کے سربراہ کو بھی اس وقت ایک مقدمے کا سامنا ہے، جسے کلیسا سیاسی نوعیت قرار دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کے دو دیگر اہم رہنما گاگیک تاروکیان اور ساموئل کاراپیتیان بھی بالترتیب عدالتی کاروائی سے قبل حراست اور نظر بندی میں ہیں اور اپنے مقدمات کی سماعت کے منتظر ہیں۔
2018ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد اقتدار میں آنے والے وزیرِ اعظم پاشینیان، مغرب کے مزید قریب اور روس سے دور ہوئے ہیں۔ روس کا جنوبی قفقاز میں واقع اس ملک میں ایک بڑا فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔ جبکہ کوچاریان اپنے دورِ صدارت میں آرمینیا اور روس کے درمیان قریبی تعلقات کے حامی رہے۔
حکومت کی حالیہ کاروائیوں میں خصوصی طور پر ان افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جنہیں روس نواز سمجھا جاتا ہے۔
آرمینیا کے عدالتی حکام نے 71 سالہ کوچاریان پر منی لانڈرنگ، رشوت وصول کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کیے ہیں۔
اس سلسلے میں مزید 9 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جن میں کوچاریان کا ایک بیٹا بھی شامل ہے۔
کوچاریان پارلیمان میں حکومت مخالف ’آرمینیا اتحاد‘ کے سربراہ ہیں، جو پارلیمان میں اپوزیشن کا دوسری بڑی جماعت ہے۔
اس سے قبل کوچاریان کو مارچ 2008ء کے متنازع انتخابات کے بعد ہونے والے اقدامات کے الزام میں 2019ء میں بھی گرفتار کرکے مقدمہ چلایا گیا تھا۔ اس وقت پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بعد ازاں کوچاریان کے خلاف الزامات ختم کر دیئے گئے اور یہ مقدمہ 2021ء میں اختتام پذیر ہوا۔
آپ کا تبصرہ