مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مشہد یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے محققین نے دائمی جلدی زخموں کے علاج کے لیے تین تہوں پر مشتمل ایک جدید طبی ڈریسنگ تیار کی ہے، جو بیک وقت انفیکشن سے تحفظ، سوزش میں کمی اور زخم بھرنے کے عمل کو تیز کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
ایران کی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کے مطابق یہ تحقیق علیرضا صادقی اول شہر نے سیمین نظرنژاد کی نگرانی میں ڈاکٹریٹ کے تحقیقی منصوبے کے طور پر انجام دی۔ اس میں کیراگینن، پی وی اے اور پی سی ایل پر مبنی تین تہوں والی ڈریسنگ تیار کی گئی، جس میں کیٹیچن، گرافین آکسائیڈ اور میزنکائمل اسٹیم سیلز کا سیکریٹوم شامل کیا گیا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ دائمی زخم، خصوصاً ذیابیطس کے مریضوں میں پائے جانے والے زخم، دیر سے بھرنے کے باعث ایک اہم طبی مسئلہ ہیں۔ ایسے زخموں میں انفیکشن کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے اور ان کے طویل علاج سے مریضوں اور طبی مراکز پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
نئی ڈریسنگ کی اندرونی تہہ انتہائی باریک پالیمر ریشوں سے تیار کی گئی ہے، جو براہِ راست زخم کے ساتھ رابطے میں رہتی ہے۔ اس میں گرافین آکسائیڈ شامل ہے جو اینٹی بیکٹیریل خصوصیات رکھتا ہے اور اسٹیفیلوکوکس اوریئس جیسے بیکٹیریا کے خلاف مزاحمت میں مدد دیتا ہے۔ اس تہہ میں موجود کیٹیچن ایک قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ ہے، جو آکسیڈیٹو اسٹریس اور سوزش کم کرنے میں معاون ہوتا ہے۔
درمیانی تہہ مسام دار کیراگینن اسفنج پر مشتمل ہے، جو اسٹیم سیلز کے سیکریٹوم کو محفوظ رکھنے کا کام کرتی ہے۔ سیکریٹوم میں مختلف گروتھ فیکٹرز اور بایولوجیکل سگنلنگ مالیکیولز شامل ہوتے ہیں، جو جلد کے خلیوں کی نقل مکانی اور افزائش کے ساتھ خون کی نئی نالیوں کی تشکیل، یعنی اینجیوجینیسس میں مدد کرتے ہیں۔
ڈریسنگ کی بیرونی تہہ نیم نفوذ پذیر پولی یوریتھین فلم سے بنائی گئی ہے۔ یہ بیرونی جراثیم کو زخم میں داخل ہونے سے روکتی ہے، زخم کو خشک ہونے سے بچاتی ہے اور ساتھ ہی گیسوں کے تبادلے کی اجازت دیتی ہے۔
لیبارٹری ٹیسٹوں میں اندرونی تہہ انسانی جلد کے خلیوں کے لیے بایوکمپیٹیبل اور غیر زہریلی ثابت ہوئی۔ اس نے دائمی زخموں میں عام پائے جانے والے Staphylococcus aureus کی افزائش کو بھی مؤثر انداز میں روکا۔
ذیابیطس کے زخم جیسی مصنوعی لیبارٹری صورتِ حال میں سیکریٹوم نے زخم بھرنے سے متعلق اہم جینز، جن میں VEGF، TGF-β اور IL-10 شامل ہیں، کے اظہار میں اضافہ کیا اور سوزش کم کرنے میں مدد دی۔ تجربات میں خون کی نئی نالیوں کی تشکیل میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
محققین کے مطابق اس تحقیق کے نتیجے میں ایک ملٹی فنکشنل طبی ڈریسنگ کا ابتدائی نمونہ تیار ہوگیا ہے، تاہم اسے مریضوں کے علاج میں استعمال کرنے سے پہلے مزید تجربات، خصوصاً حیوانی مطالعات اور حفاظتی و مؤثریت کے کلینیکل جائزوں کی ضرورت ہے۔
آپ کا تبصرہ