26 اگست، 2026، 3:40 PM

ایران اور عراق علاقائی نظم کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں، قالیباف

ایران اور عراق علاقائی نظم کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں، قالیباف

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمدباقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اور عراق بالخصوص خلیج فارس کے خطے میں نئے علاقائی نظم کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمدباقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اور عراق علاقائی نظم کی تشکیل، بالخصوص خلیج فارس کے خطے میں، فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

محمدباقر قالیباف نے عراق کی سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ فائق زیدان سے ملاقات میں کہا کہ رواں سال شہید امام خامنہ ای کے جسد خاکی کی شاندار تشییع اور اربعین کی منظم و باوقار تقریبات کا انعقاد دونوں قوموں کے لیے باعثِ فخر ہے۔ یہ مراسم عالمِ اسلام اور بالخصوص عالمِ تشیع کے لیے ایک بڑی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے اسلامی جمہوریہ ایران کا تختہ الٹنے اور مغربی ایشیا و عالم اسلام میں اپنی بالادستی بڑھانے کے مقصد سے ایران کے خلاف جنگ شروع کی، لیکن شہدا کے خون، ایرانی قوم کی استقامت اور مزاحمتی محاذ کی کوششوں سے امریکا اپنے مقاصد میں واضح طور پر ناکام رہا اور پوری دنیا نے اس حقیقت کا اعتراف کیا۔

قالیباف نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف فوجی اور سیاسی میدان میں شکست کھا چکا ہے اور اقتصادی اقدامات میں بھی شکست سے دوچار ہوگا۔

انہوں نے عراق سے امریکی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے انخلا کو عراقی حکومت اور عوام کے لیے ایک تاریخی اعزاز قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ انخلا عراق کی سرزمین اور فضائی حدود سے مکمل طور پر عمل میں آئے گا۔

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کا منصوبہ جنگ کو خطے کے دیگر ممالک تک پھیلانا ہے اور اگر اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں کامیاب ہو جاتا تو اس کے بعد وہ خطے کے دوسرے ممالک کو بھی نشانہ بناتا۔

قالیباف نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ اختلافات کو ہوا دینے والے معاملات کو ایک طرف رکھیں۔ غزہ کی جنگ کے دوران دنیا نے دیکھا کہ تمام شیعہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے تھے۔ شہید قاسم سلیمانی ہمیشہ کہتے تھے کہ شیعہ اور سنی صرف ایک دوسرے کے بھائی ہی نہیں بلکہ ہم اہل سنت کے لیے اپنی جان بھی قربان کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور عراق بالخصوص خلیج فارس کے خطے میں علاقائی نظم کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عراق کی سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ فائق زیدان نے بھی کہا کہ وہ عراقی عوام اور ریاست کی جانب سے ایران کے لیے یکجہتی کا پیغام لے کر آئے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعاون کے لیے اپنی آمادگی کا اعلان کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان تعاون، معاہدے اور اتحاد قائم کرنا بدامنی سے نجات کا راستہ ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ مقصد اب زیادہ دور نہیں۔

زیدان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان اچھے تعلقات ایسا ماحول فراہم کرتے ہیں جس کے ذریعے عراق خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعاون کے معاہدے اور علاقائی شراکت داری قائم کرنے کی جانب قدم بڑھا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عراق اسلامی جمہوریہ ایران کے مثبت مؤقف کو کبھی فراموش نہیں کرے گا اور نہ ہی ایرانی شہدا، بالخصوص شہید قاسم سلیمانی کو بھولے گا، جو عراق میں شہید ہوئے۔ شہید سلیمانی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور شہید سلیمانی اور شہید ابومہدی المہندس کی مشترکہ شہادت اپنے اندر ایک الٰہی پیغام رکھتی تھی اور دونوں قوموں کے درمیان یکجہتی کا پیغام بھی ساتھ لائی۔

فائق زیدان نے مزید کہا کہ ایرانی اور عراقی عوام کے درمیان ہم آہنگی اور یکجہتی ایک ابدی رشتہ ہے، اسی لیے ایران کے شہید رہنما کی تشییع کے موقع پر جو کچھ دیکھا گیا وہ کسی سرکاری حکم کا نتیجہ نہیں بلکہ عوامی اور خودجوش اقدام تھا۔

News ID 1940898

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha