26 اگست، 2026، 2:31 PM

سعودی عرب اور امریکا کا جوہری معاہدہ امریکی کانگریس میں پیش

سعودی عرب اور امریکا کا جوہری معاہدہ امریکی کانگریس میں پیش

ریاض اور واشنگٹن کے درمیان سول جوہری تعاون کے معاہدے کی منظوری کا عمل شروع جبکہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی شرط برقرار رکھی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کے مجوزہ معاہدے کو حتمی منظوری کے لیے امریکی کانگریس کو بھیج دیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی حکومت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری توانائی کے حوالے سے مجوزہ معاہدہ کانگریس کو ارسال کر دیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ اسی صورت میں نافذ ہوگا جب سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لائے گا۔

امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جولائی میں طے پانے والا یہ معاہدہ پیر کے روز کانگریس کو بھیجا گیا۔ معاہدے کے تحت امریکی کمپنیوں کو سعودی عرب کو سول جوہری ٹیکنالوجی برآمد کرنے کی اجازت ملے گی۔

امریکی عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور یہ معاہدہ اسی صورت آگے بڑھے گا جب سعودی عرب معاہدۂ ابراہیم میں شامل ہوگا۔

معاہدۂ ابراہیم 2020 اور 2021 کے دوران اسرائیل اور متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان کے درمیان طے پایا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور ان عرب و مسلم ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔

سعودی عرب اور امریکا کے درمیان مجوزہ جوہری معاہدے کی مدت 30 سال ہوگی، جس میں AP1000 جوہری ری ایکٹروں کی تعمیر بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کی مالیت دسیوں ارب ڈالر بتائی جاتی ہے اور اس سے امریکی کمپنی ویسٹنگ ہاؤس کو بھی نمایاں مالی فائدہ حاصل ہوگا۔

ویسٹنگ ہاؤس کی مشترکہ ملکیت کینیڈا میں قائم کمپنی کیمکو اور بروک فیلڈ ایسٹ مینجمنٹ کے پاس ہے۔

کانگریس کے ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ کانگریس کی قیادت کو بھیج دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ بدھ کے روز اسے متعلقہ کمیٹیوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔

قانونی طریقۂ کار کے تحت اگر امریکی کانگریس 90 دنوں کے اندر اس معاہدے کی مخالفت نہیں کرتی تو یہ نافذ العمل ہو جائے گا۔ تاہم اگر کانگریس معاہدے کو مسترد کر دیتی ہے تو صدر ٹرمپ اس فیصلے کو ویٹو کر سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں صدارتی ویٹو ختم کرنے کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں کے دو تہائی ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔

امریکی کانگریس کے بعض ڈیموکریٹ ارکان اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے حامی حلقوں نے اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ معاہدہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی یا جوہری فضلے کی دوبارہ پراسیسنگ سے نہیں روکتا۔ یہ دونوں ایسے راستے ہیں جنہیں ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس کے برعکس متحدہ عرب امارات نے 2009 میں امریکا کے ساتھ اپنے سول جوہری معاہدے کے تحت یورینیم افزودگی اور جوہری فضلے کی دوبارہ پراسیسنگ سے دستبرداری پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

News ID 1940900

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha