مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی اخبار ٹیلی گراف میں امبروز ایونز پریچارڈ کے قلم سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کو اقتصادی طور پر تنہا کرنے کا امریکی منصوبہ کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ امریکہ اب اپنے دشمنوں کے خلاف عالمی اقتصادی محاصرہ نافذ کرنے کے لیے ماضی جیسی طاقت اور اثر و رسوخ نہیں رکھتا۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ اس تنازع میں امریکہ کو چین، روس، بھارت، یورپ اور دنیا کے بڑے مالیاتی مراکز کے تعاون کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب چین بھی امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ مضبوط ہوچکا ہے اور وہ امریکی پابندیوں کے جواب میں اہم معدنیات یا امریکی مالیاتی وسائل کے خلاف اقدامات کرسکتا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس کشمکش کا جاری رہنا عالمی توانائی کے بحران کو مزید سنگین بنا سکتا ہے، کیونکہ ایندھن اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ یورپ کے ذخائر میں کمی صورتحال کو مزید پیچیدہ کرسکتی ہے۔
ٹیلی گراف کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک انتہائی پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے؛ اگر پابندیاں مؤثر ثابت ہوتی ہیں تو ایران توانائی کی عالمی منڈی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے فوجی اقدام کرسکتا ہے، جبکہ اگر امریکہ ان پابندیوں سے پیچھے ہٹتا ہے تو اس کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی بے نتیجہ ثابت ہوگی۔
آپ کا تبصرہ