مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال ایک ایسے تعطل کا شکار ہو چکی ہے جہاں نہ جنگ کی مکمل کیفیت ہے اور نہ امن قائم ہوا ہے، جبکہ قاہرہ ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
بدر عبدالعاطی نے اماراتی جریدے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں ایک سنگین مسئلہ موجود ہے اور جیسا کہ سب جانتے ہیں، موجودہ صورتحال نہ جنگ کی ہے اور نہ امن کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالات اس مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پورا خطہ ایک تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔
مصری وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ مصر ایرانی فریق کے ساتھ اپنے رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق قاہرہ فوری طور پر اس تنازع کو ختم کرنے کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے ایک ایسے معاہدے کی حمایت کرتا ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام کا جائزہ، امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جنگ بندی کا قیام شامل ہو۔
عبدالعاطی نے کہا کہ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ، جس کا مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا، گزشتہ ماہ ناکام ہو گیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں پابندیوں میں کمی اور آبنائے ہرمز کو کھولا جانا تھا، تاہم ان دونوں میں سے کوئی بھی اقدام عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔
آپ کا تبصرہ