مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سپاہ پاسداران کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے اسلامی جمہوری ایران کے مخالف کرد گروہوں کی جانب سے ملک کی سرحدوں کی طرف پیش قدمی اور ترکی، پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے درمیان پیمان مکہ کے حوالے سے سامنے آنے والے دعووں پر کہا کہ کوملہ اور ڈیموکریٹ جیسے انقلاب مخالف گروہوں کے ٹھکانوں اور اجتماع گاہوں کو ایران مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان گروہوں کے خلاف مسلسل بمباری، میزائل حملے اور ڈرون کارروائیاں کی گئی ہیں اور ان کی جنگی صلاحیت بڑی حد تک ختم ہوچکی ہے۔ ان کے تمام اہم اجتماع گاہوں اور اسلحہ و سازوسامان کے ذخیروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
سپاہ پاسداران کے ترجمان نے ایران کی سرحدوں کی جانب ان گروہوں کی پیش قدمی کے بارے میں کہا کہ جس انداز میں یہ معاملہ پیش کیا جا رہا ہے، اس حد تک اس کی کوئی حقیقت نہیں اور یہ زیادہ تر محض تشہیری مہم ہے، کیونکہ ایران نے ان گروہوں کی صلاحیت کو ختم کردیا ہے اور انہیں ابتدا ہی میں ناکام بنا دیا ہے۔
مکہ معاہدے کے بارے میں جنرل محبی نے کہا کہ ایران اسے خطے سے غیر ملکی طاقتوں کے اثر و رسوخ اور مداخلت کو ختم کرنے کی جانب ایک قدم سمجھتا ہے۔ ایران کو اس بات پر خوشی ہوگی کہ خطے کے ممالک آپس میں معاہدے کریں اور غیر ملکی طاقتوں کو خطے سے باہر نکالنے کے لیے مل کر اقدامات کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف نہیں بلکہ امریکہ کی موجودگی کے خلاف ہے، اس لیے ایران کو اس حوالے سے کسی قسم کا عدم تحفظ محسوس نہیں ہوتا۔
سپاہ پاسداران کے ترجمان نے خطے کے ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کے حوالے سے کہا کہ ان ممالک کے عوام برسوں سے ایران کے ساتھ رابطے اور تعلقات رکھتے آئے ہیں اور آئندہ بھی یہ روابط جاری رہیں گے، لہذا اس حوالے سے کسی تشویش کی ضرورت نہیں۔
جنرل محبی نے مزید کہا کہ اگر یہ معاہدہ اپنی انتہائی شکل میں بھی طے پا جاتا ہے تو بظاہر یہ صرف کاغذوں تک محدود رہے گا اور اس پر عملی طور پر عمل درآمد ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے تاکید کی کہ ایران کو مکہ معاہدے سے کوئی تشویش نہیں اور اس کا سب سے اہم پیغام خطے سے امریکہ کے قدم اکھاڑنے کی کوشش ہے۔
آپ کا تبصرہ