مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے کہا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران ایران اور روس کے تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو پانچ بنیادی محوروں کے ذریعے آگے بڑھایا گیا ہے۔
انہوں نے ماسکو میں ہفتہ حکومت کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان پانچ محوروں میں جامع اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط اور اس کا نفاذ، یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ آزاد تجارت، شمال جنوب کوریڈور، مالی و بینکاری تعاون اور توانائی کے شعبے میں مشترکہ اقدامات شامل ہیں۔
جلالی نے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات ایران کی قیادت کی روس اور ہمسایہ ممالک کے بارے میں گہری اور دور اندیش سوچ کا نتیجہ ہیں۔ ان کے مطابق، گزشتہ دو برس میں اسی پالیسی کے تحت ماسکو کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
انہوں نے ان خیالات کو مسترد کیا کہ ایران روس تعلقات کو ایران اور مغرب کے تعلقات کے تابع سمجھا جائے۔ ایران ہمیشہ مغرب کے ساتھ مناسب تعلقات کا خواہاں رہا ہے، لیکن مغربی ممالک کی دھوکہ دہی اور فریب کاری نے ان تعلقات کو متاثر کیا۔
ایرانی سفیر نے گزشتہ سال ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے جنگ سے بچنے کے لیے دو مراحل میں متعدد مرتبہ واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کی، لیکن امریکیوں نے مذاکرات کے دوران فریب کاری کی۔
جلالی نے واضح کیا کہ ایران روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک بڑے اور ہمسایہ ملک کے ساتھ آزادانہ تعلقات کے طور پر دیکھتا ہے اور اسے مغرب کے ساتھ تعلقات سے الگ سمجھتا ہے۔ ایران کی پالیسی کا بنیادی اصول ہے کہ روس طاقتور اور ایران خودمختار ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایران مغرب، روس اور چین سمیت تمام ممالک کے ساتھ تعلقات میں اپنی خودمختاری برقرار رکھنے اور عزت، حکمت اور مصلحت کے اصولوں کی پابندی کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔
جلالی نے دونوں ممالک کے اعلی سطحی رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پوتین کے درمیان اب تک پانچ بالمشافہ ملاقاتیں ہوچکی ہیں، جبکہ آئندہ ہفتے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد یہ تعداد چھ ہوجائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو برس کے دوران دونوں صدور کے درمیان چھ ٹیلی فونک گفتگو بھی ہوچکی ہیں۔
ایرانی سفیر کے مطابق، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے درمیان بھی گزشتہ دو برس میں 12 بالمشافہ ملاقاتیں اور 17 ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں وزرائے خارجہ کی آخری ملاقات دو ہفتے قبل بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی۔
آپ کا تبصرہ