مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے 21 واں شہید رجائی فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے حالیہ واقعات میں خواتین کے کردار کو سراہا اور کہا کہ خواتین، ماؤں اور بیٹیوں نے ملک کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے اور اگر خواتین کا کردار مردوں سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہے۔
انہوں نے جنگ کے دوران مختلف طبقات کی جانب سے مزاحمت اور ثابت قدمی کو نیز خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے غنڈوں اور غیر انسانوں کے مقابلے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ عوام ملک کا سرمایہ ہیں اور تمام حکام عوام کے خادم ہیں۔ حکومتی ذمہ داریاں اہل، قابل اور باصلاحیت افراد کو سونپی جانی چاہئیں، نہ کہ محض ذاتی تعلقات یا وابستگی کی بنیاد پر۔ تمام افراد کو، خواہ ان کا تعلق کسی قوم، جنس یا علاقے سے ہو، اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا یکساں موقع ملنا چاہیے۔
ایرانی صدر نے جنگ اور امن کے حوالے سے کہا کہ ایرانی عوام نے ثابت کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ ڈٹ کر مقابلہ کر سکتے ہیں، لیکن جنگ ہر مسئلے کا حل نہیں۔ بعض مسائل کو تدبر، عقل اور دوراندیشی کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی مالک اشتر کو دی جانے والی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر صلح میں اللہ کی رضا اور عوام کا امن ہو تو اسے مسترد نہیں کرنا چاہیے، تاہم دشمن کے حوالے سے مکمل ہوشیاری بھی ضروری ہے۔
پزشکیان نے عہد و پیمان کی پاسداری کو اہم الٰہی فریضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو دشمن پر اعتماد نہیں، تاہم تدبر اور حکمت کے ذریعے موجودہ بحرانوں سے نکلنے کی کوشش جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی تجزیوں کے مطابق ایران کو کئی بار شکست کھا جانی چاہیے تھی، لیکن ملک طاقت، اتحاد اور عوامی یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا۔
ایرانی صدر نے آخر میں کہا کہ اگر قوم اور حکام اخلاص کے ساتھ میدان میں موجود رہیں اور ملک کے لیے کام کریں تو اللہ کے فضل و کرم سے کامیابی حاصل ہوگی۔
آپ کا تبصرہ