مہر خبررساں ایجنسی نے آناتولی کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین اور ابو محمد جولانی نے بدھ کے روز ٹیلیفونک گفتگو کے دوران حمیمیم اور طرطوس کے فوجی اڈوں پر روس کی فوجی موجودگی کی تنظیمِ نو سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی اہمیت پر زور دیا۔
کریملن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ماسکو اور دمشق کے درمیان موجودہ صورتحال اور دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا اور سیاسی مذاکرات کے ساتھ ساتھ تجارتی، اقتصادی، انسانی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کے دوران پوتین نے شام کے اتحاد، علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی حمایت پر مبنی اپنے اصولی مؤقف کو ایک بار پھر واضح کیا۔
انہوں نے طویل مدتی بنیادوں پر حالات کو معمول پر لانے اور جنگ کے بعد شام کی تعمیرِ نو کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے 9 اگست کو حمیمیم ایئربیس اور طرطوس کی لاجسٹک تنصیبات کی تنظیمِ نو سے متعلق دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کی اہمیت پر زور دیا۔
رپورٹ کے مطابق، پوتین اور جولانی نے مختلف سطحوں پر باہمی رابطے جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
یہ ٹیلیفونک رابطہ جنوری میں جولانی کے روسی دارالحکومت ماسکو کے دورے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ ہے۔
جولانی حکومت کی وزارتِ خارجہ کے مطابق، 9 اگست کو ماسکو اور دمشق نے تقریباً 18 ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد مغربی شام میں واقع حمیمیم اور طرطوس کے فوجی اڈوں پر روسی موجودگی کی تنظیمِ نو کے حوالے سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔
آپ کا تبصرہ