2 اپریل، 2025، 8:51 AM

ایران کے خلاف طاقت کا استعمال، سعودی عرب کی مخالفت، برطانوی اخبار

ایران کے خلاف طاقت کا استعمال، سعودی عرب کی مخالفت، برطانوی اخبار

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق سعودی عرب سمیت خلیج فارس کے ممالک صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف عسکری کاروائیوں کی مخالفت کررہے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں سعودی عرب سمیت خلیج فارس کے ممالک کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف عسکری دھمکیوں کی مخالفت کی خبر دی ہے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں فوجی حملے کی براہ راست دھمکی دی تھی، جس پر ایرانی حکام نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ اگر ایران معاہدہ نہیں کرتا، تو اس پر ایسا حملہ ہوگا جو اس نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ یہ دھمکی ایران کو مذاکرات کے لیے لکھے گئے ٹرمپ کے خط کے بعد سامنے آئی۔ ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ انہوں نے اپنا جواب عمان کے ذریعے بھجوایا ہے اور وہ بالواسطہ مذاکرات کے خواہاں ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ٹرمپ کی دھمکی عالمی امن و سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے منشور اور جوہری توانائی ایجنسی کے معاہدوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دھمکی محض زبانی ہے، لیکن اگر کوئی حملہ ہوتا ہے تو ایران کا ردعمل سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔

سپاہ پاسداران کی فضائیہ کے سربراہ جنرل علی حاجی زادہ نے خبردار کیا ہے کہ جو شخص شیشے کے گھر میں رہتا ہو، وہ دوسروں پر پتھر نہیں پھینکتا۔

انہوں نے خطے میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ فورسز کسی بھی جنگ کی صورت میں شدید خطرے سے دوچار ہوں گی۔

گارڈین کی رپورٹ کے مطابق خطے کے ممالک خاص طور پر سعودی عرب اس کشیدگی کے بڑھنے کے خلاف ہیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ جنگ کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ حالیہ واقعات کا ایک اہم پہلو خلیج فارس کے ممالک بالخصوص سعودی عرب کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کی سخت مخالفت ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے متوقع دورۂ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران ایران پر حملے کی مخالفت کا دوٹوک پیغام دیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی اس مخالفت کی بڑی وجہ خطے میں مزید عدم استحکام کا خدشہ ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، سعودی عرب، ایران کے ساتھ اپنی علاقائی رقابت کے باوجود تہران میں حکومت کی تبدیلی کو اپنے مفاد میں نہیں سمجھتا۔ ریاض کو خدشہ ہے کہ کسی بھی فوجی مہم جوئی سے خلیج فارس میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے، جو اس کی معیشت اور سلامتی کے لیے نقصان دہ ہوگی۔

واضح رہے کہ ایران کے معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ کے اندر مختلف خیالات پائے جاتے ہیں۔ مشیر برائے قومی سلامتی مائیک والٹز جیسے انتہا پسند لوگ ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ جبکہ ٹرمپ کے خصوصی مشیر برائے مشرق وسطی، اسٹیو وٹکاف ایران کے جوہری پروگرام پر صرف محدود پابندیاں لگانے کے حامی ہیں۔

داخلی اختلافات اور سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک کی مخالفت کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف جارحانہ پالیسیوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ کھڑی ہوسکتی ہے اور اس کے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمت عملی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

News ID 1931558

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha

    تبصرے

    • Mudassar syed PK 06:25 - 2025/04/03
      0 0
      ایران کو سعودی عرب کویت قطر اردن پر بھروسہ نیہن کرنا چاہے۔یہ تمام ملک امریکی بندر ہے