شہید جوہری سائنسدانوں کا لہو نوجوانوں کو علمی جہاد کے لئے دوگنا حوصلہ دیتا ہے، امیر عبداللہیان 

دو ایرانی ایٹمی سائنسدانوں کی شہادت کی برسی کے موقع پر وزیر خارجہ نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ان دونوں عزیز شہداء کا لہو ملک کے باشعور نوجوانوں کے لیے اپنے سائنسی جہاد کو جاری رکھنے کا دوگنا محرک ہے۔

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ایران کے ایٹمی شعبے کے دو شہداء کی شہادت کی برسی کے موقع پر ایک بیان جاری کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کے دو ممتاز ایٹمی سائنسدان اور جانثار علمی ستاروں شہید مصطفی احمدی روشن اور شہید مسعود علی محمدی کی برسی پر ان دو عزیز شہدا کے اہل خانہ اور عظیم ایرانی قوم کو تعزیت اور تہنیت پیش کرتا ہوں۔ 

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ دونوں عزیز شہید اپنے عشق، ذہانت اور پختہ ارادے کے ساتھ ملک کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کے میدان میں اس قدر مؤثر اور خلوص کے ساتھ نمودار ہوئے کہ استکبار اور تسلط پسند نظام ہمارے ملک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان کے ان مجاہدوں کی موجودگی کو برداشت نہ کر سکا اور اپنے خام خیالوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کو سائنسی اور ایٹمی آزادی کی بلندیوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے ان کے پاکیزہ جسموں کو اپنے کرائے کے اور بے بس دہشت گردوں کے بزدلانہ اور بھیمانہ حملے کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان شاء اللہ ان دونوں پیارے شہیدوں کے لہو کی گرمی ملک کے باصلاحیت نوجوانوں کے لیے اپنا سائنسی جہاد جاری رکھنے، اپنے اہم سائنسی اہداف کے حصول اور اسلامی ملک کے خود کفالتی تک پہنچنے کے لیے دوگنا محرک ثابت ہوگی۔

امیر عبد اللہیان نے یہ بھی کہا کہ بلاشبہ ان دو قیمتی سائنسدانوں کی شہادت سے ٹیکنالوجی کے شعبے اور ملک اور ایرانی قوم کو خودمختاری تک پہنچانے کے لئے جدوجہد کرنے والوں کی حمایت اور مدد کرنے کے ہمارے عزم کو تقویت ملتی ہے۔

آخر میں انہوں نے جوہری توانائی کے شعبے میں شہید ہونے والے دیگر سائنسدانوں اور تمام شہداء کو بھی یاد کیا اور ملک و ملت کے لئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے پر انہیں بھی خراج تحسین پیش کیا۔ 

News Code 1914142

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha