جمعرات کو سلامتی کونسل کا اجلاس متوقع؛ تل ابیب کی اجلاس ملتوی کروانے کی کوششیں

متحدہ عرب امارات اور چین نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا جبکہ تل ابیب اسے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غیر ملکی ذرائع نے خبر دی ہے کہ غاصب صہیونی حکومت کے وزیر داخلی سلامتی اٹمار بین گوئر کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ کی بے حرمتی کے بعد متحدہ عرب امارات اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے سے باخبر سفارت کاروں نے اعلان کیا ہے کہ سلامتی کونسل کا اجلاس کل بروز جمعرات متوقع ہے۔

خیال رہے کہ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا کہ جب دنیا بھر میں اس واقعہ کی شدید مذمت کی جا رہی ہے یہاں تک کہ صہیونی حکومت کے قریبی اتحادی کے طور پر امریکہ کو بھی ان واقعات پر گہری تشویش ظاہر کرنا پڑی۔

دوسری جانب روسی ذرائع ابلاغ نے صہیونی ویب سائٹ واللا کے حوالے سے خبر دی ہے کہ تل ابیب کے حکام مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر سلامتی کونسل کے اجلاس کے انعقاد کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں واللا ویب سائٹ نے رپورٹ دی ہے کہ صہیونی حکومت کی وزارت خارجہ نے سلامتی کونسل کے رکن ممالک میں اپنے 15 سفیروں کو پیغام بھیجا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اس اجلاس کے انعقاد کو روکنے کے لیے ان ملکوں کے حکام سے مشاورت کریں۔

 لہذا ان ممالک میں صیہونی سفیروں سے کہا گیا ہے کہ وہ مذکورہ حکومتوں سے سلامتی کونسل کے اجلاس میں مسجد الاقصی پر اٹمار بین گوئر کے حملے کے معاملے کی مخالفت کرنے کو کہیں۔

انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ اگلے مرحلے میں اگر ایسا کوئی اجلاس منعقد ہوتا ہے تو وہ سلامتی کونسل کو صہیونیت مخالف قرارداد یا بیان جاری کرنے سے روکیں۔

واضح رہے کہ اٹمار بین گوئر گزشتہ روز اشتعال انگیز اقدام کے تحت سخت حفاظتی اقدامات کے ساتھ مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا اور کچھ دیر کے بعد وہاں سے نکل گیا۔ مسجد اقصیٰ پر حملے کے دوران اس نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی۔ مختلف فلسطینی گروپوں اور علاقائی تنظیموں نے بیانات جاری کرکے بین گوئر کے اس اقدام کی شدید مذمت کی۔
 

News Code 1914021

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha