امارات کے بعد بحرین کی بھی  مسئلہ فلسطین اور امت مسلمہ کے ساتھ  غداری اور خيانت آشکار ہوگئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحرین اور اسرائیل کے درمیان سفارتی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین گذشتہ 30 روز میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا دوسرا ملک بن گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے الجزیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحرین اور اسرائیل کے درمیان سفارتی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین گذشتہ 30 روز میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا دوسرا ملک بن گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل اور بحرین  کے درمیان سفارتی تعلقات کو تاریخی پیش رفت قراردے دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ بحرین گزشتہ 30 روز میں اسرائیل کے ساتھ  سفارتی معاہدہ کرنے والا دوسراملک ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ آج ایک اور تاریخی پیش رفت ہوئی ہے اور ہمارے دو عظیم دوستوں اسرائیل اور بحرین نے امن معاہدہ پر اتفاق کیا ہے۔

تینوں ملکوں امریکہ، اسرائیل اور بحرین  کے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق بحرین کے بادشاہ آل خلیفہ  نے امریکی صدر ٹرمپ کا دعوت نامہ قبول کرلیا ہے جہاں وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ 15ستمبر کو وائٹ ہائوس میں ہونے والی ت تقریب میں شرکت کرینگے اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے معاہدے پر دستخط کریں گے۔ عرب مبصرین کے مطابق یزید اور معاویہ کے نقش قدم پر خلنے والے عرب ممالک اس دور کے یزید اور معاویہ یعنی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بھر پور تعاون کررہے ہیں۔ ادھر فلسطینی تنظیموں نے بحرین کے بادشاہ کی خیانت اور غداری کیم ذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امت مسلمہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کی خیانت کو ہر گز فراموش نہیں کریں گے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد سعودی عرب نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن سعودی عرب ، یزيد اور معاویہ کی منافقانہ پالیسی اپناتے ہوئے کسی مناسب وقت میں اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کا اعلان رکےگا ، ابھی وہ امیرکہ کے اشاروں پر امت مسلمہ میں اختلاف اور تفرقہ ڈالنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

News Code 1902873

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 3 =