علاقہ میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے امریکی ، عربی اور اسرائیلی اتحاد

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع نے علاقہ میں عدم استحکام پیدا کرنے کے سلسلے میں امریکی ، عربی اور اسرائیلی اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ خطے میں اسلامی بیداری کو روکنے کے لئے امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل نے ایک متحدہ پلیٹ فارم پہلے سے تشکیل دے رکھا ہے اسلامی مقاومت اور مزاحمت کے خلاف امریکہ ، اسرائيل اور سعودی عرب تینوں کا ہدف واحد ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع جنرل حسین دہقان نے علاقہ میں عدم استحکام پیدا کرنے کے سلسلے میں امریکی ، عربی اور اسرائیلی اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ خطے میں اسلامی بیداری کو روکنے کے لئے امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل نے ایک متحدہ  پلیٹ فارم پہلے سے تشکیل دے رکھا ہے اسلامی مقاومت اور مزاحمت کے خلاف  امریکہ ، اسرائيل اور سعودی عرب تینوں کا ہدف واحد ہے۔

جنرل دہقان نے کہا کہ امریکی ، اسرائیلی اور سعودی مثلث کو یمن، شام، فلسطین، عراق اور دیگر جگہوں پر شکست کا سامنا ہے۔ یمن میں نہتے عوام  سعودی عرب کی بربریت اور جارحیت کا ڈٹ کرمقابلہ کررہے ہیں یمنی عوام نے نئی پارلیمنٹ تشکیل دے کر ایک نئی انتظامیہ کو بھی تشکیل دیدیا ہے جسے یمنی عوام کا سعودی عرب اور اس کے نام نہاد اتحاد کے منہ پر زوردار سیاسی طمانچہ قراردیا جارہا ہے۔

جنرل دہقان نے کہا کہ سعودی عرب کو ہر محاذ پر شکست و ناکامی کا سامنا ہے۔ سعودی عرب کی فوج جس  کےپاس  امریکہ کے پیشرفتہ ہتھیارموجود ہیں اور جو یمن کے نہتے عوام پر امریکہ کے پیشرتہ ہتھیاروں سے بمباری کررہی ہے اسے سوائے سنگين جرائم کے کوئی کامیابی نہیں مل سکی اور سعودی عرب کی فوج کا بھی اسرائیلی فوج کی طرح طلسم ٹوٹ گیا ہے ۔

جنرل دہقان نے کہا کہ ترکی کی پشت میں اس کے دوستوں اور اتحادیوں نے خنجر گھونپنے کی کوشش کی جو ناکام ہوگئی اور اب ترکی اپنی ماضی کی غلطیوں کی تلافی کرنے کی تلاش و کوشش کررہا ہے شام اور دہشت گردوں کی حمایت کے سلسلے میں ترکی کے مؤقف میں تبدیلی کی توقع کی جاتی ہے۔جنرل دہقان نے کہا کہ موصل میں داعش کی شکست کے بعد داعش کا عراق سےمکمل طور پر خاتمہ ہوجائے گا۔

جنرل دہقان نے شام اور علاقائي مسائل کے سلسلے میں روس اور ایران کے باہمی تعاون کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان مشترکہ مسائل میں فوجی تعاون جاری ہے اور جاری رہےگا۔

News Code 1866346

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha