چین کی بڑھتی ہوئي طاقت سے امریکہ پریشان

امریکی پیسیفک کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ہیری ہیرس نے چین اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات سے پہلے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا کہ چین خطے میں میزائل اور راڈار نصب کررہا ہے، اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ طاقت کا توازن تبدیل ہورہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی پیسیفک کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ہیری ہیرس نے چین اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات سے پہلے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا کہ چین خطے میں میزائل اور راڈار نصب کررہا ہے، اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ طاقت کا توازن تبدیل ہورہا ہے۔ اور چین خطے کا آپریشنل منظر نامہ تبدیل کررہا ہے۔ ایڈمرل ہیرس کا کہنا تھا کہ اگر آپ اس بات پر یقین نہیں رکھتے تو یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ گویا آپ ابھی تک زمین کو سپاٹ سمجھتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ووڈی آئی لینڈ میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں اور راڈار سسٹم کی تنصیب جبکہ سپریٹلی آئی لینڈ میں رن وے تعمیر کرکے چین نے آپریشنل منظر نامہ تبدیل کردیا ہے۔ ایڈمرل ہیرس کے بیان کے کچھ ہی دیر بعد امریکی حکومت کے ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کردی کہ چین نے ووڈی آئی لینڈ پر جنگی طیارے بھی پہنچادئیے ہیں۔ بحیرہ جنوبی چین سے ہر سال تقریباً 5 کھرب ڈالر مالیت کا تجارتی سامان گزرتا ہے، اور دنیا بھر کے ممالک کے لئے یہ بحری راستہ اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ اس خطے میں اپنے اتحادیوں کی حمایت کے نام پر مداخلت کرتا رہا ہے اور اثر و رسوخ بڑھانے کا خواہاں رہا ہے۔ دوسری جانب چین کی طرف سے بحیرہ جنوبی چین میں مصنوعی جزیروں کی تعمیر اور ان پر میزائل اور جنگی جہاز پہنچائے جانے کے بعد امریکہ کو اپنے عزائم ناکام ہوتے نظر آرہے ہیں۔
اگرچہ چین کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین کے بین الاقوامی بحری راستے کو تمام ملک استعمال کرسکتے ہیں لیکن اس کے باوجود امریکہ چین پر طاقت کا توازن بگاڑنے کا الزام لگا کر خطے میں خطرناک مداخلت کی نئی سازشوں میں مصروف ہے۔

News Code 1862087

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha