ایران کے میزائل سسٹم کا ایٹمی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں

خبر آئی ڈی: 3028657 -
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ محمد جواد ظریف نے ٹی وی پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے نفاذ میں ایران کی کامیابی تاریخی کامیابی ہے اور اس میں گذشتہ سفارتکاروں کی زحمت بھی شامل ہے ایران کے بیلسٹک میزائل سسٹم کا ایٹمی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں اور میزائل پروگرام کا سلسلہ جاری رہےگا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ محمد جواد ظریف نے ٹی وی پروگرام نگاہ یک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے نفاذ میں ایران کی کامیابی تاریخی کامیابی ہے اور اس میں گذشتہ سفارتکاروں کی زحمت بھی شامل ہے ایران کے بیلسٹک میزائل سسٹم کا ایٹمی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں اور میزائل پروگرام کا سلسلہ جاری رہےگا۔

انھوں نے کہا کہ ایٹمی مذاکرات کے دوران کئی جگہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اللہ تعالی کی ذات پر توکل و اعتماد اور آئمہ معصومین علیھم السلام کے ساتھ توسل کے ذریعہ تمام مشکلات یکے بعد دیگرے حل ہوتی گئیں اور آخر کار اللہ تعالی نے ائمہ معصومین کے طفیل  ایران کی مذاکراتی ٹیم کو ایرانی عوام کے حقوق کے حصول میں تاریخی کامیابی عطا کی جس کے نتیجے میں ایٹمی معاملے کے سلسلے میں عائد تمام اقتصادی پابندیاں ختم ہوگئیں ۔

ایرانی وزير خارجہ نے کہا کہ مغربی ممالک نے مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف ہونے والے ظلم اور نا انصافیوں کا بھی اعتراف کیا اور ایرانی قوم اپنی استقامت اور پائداری کی بدولت اپنے ایٹمی حقوق کے حصول میں کامیاب اور کامراں ہوگئی ۔

ایرانی وزير خارجہ نے کہا کہ ہم اس معاہدے کے نتیجے میں ایرانی عوام کے دلوں میں خوشحالی اور ان کے لبوں پر مسکراہٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔ معاہدے کی خلاف ورزی پر ایران بھی جواب دے گا۔

ایرانی وزير خارجہ نے ایران کے خلاف سعودی عرب کے معاندانہ اقدامات کو غیر سنجیدہ، جلدبازی اور سیاسی عدم بصیرت پر مبنی قراردیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل سعودی عرب امریکہ کی پشت پر رہ کر ایران کے خلاف معاندانہ اقدامات کرتا رہتا تھا اور اب اس نے دیکھا کہ امریکہ خود ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آگیا ہے تو سعودی عرب نے براہ راست ایران کے خلاف غیر سنجیدہ اقدامات کا آغاز کردیا لیکن سعودی عرب کو اپنے غیر سنجیدہ اقدامات پر پشیمان ہونا پڑےگا۔

وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ یمن پرسعودی عرب کے وحشیانہ جرائم کو اب دنیا کی کوئی طاقت چھپا نہیں سکتی اور نہ ہی سعودی عرب مال و زر کے ذریعہ اپنے بہیمانہ جرائم پر پردہ ڈآل سکتا ہے۔ سعودی عرب ایک طرف دہشت گردوں کو مالی اور جنگی وسائل فراہم کررہا ہے اور دوسری طرف دہشت گردوں کے خلاف نام نہاد اتحاد بنا رہا ہے اس طرح دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب کی منافقانہ پالیسی بھی عالمی سطح پر نمایاں ہوگئی ہے اور یمن میں سعودی عرب کی شکست یقینی ہے کیونکہ سعودی عرب دس ملکوں کے ساتھ ملکر کر بھی یمن پر قبضہ نہیں کرسکا اور یمن پر اپنی مرضی کے مطابق حکومت قائم نہیں کرسکا ۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اسلامی، اخلاقی اور انسانی رفتار کے لحاظ سے ایک پست ملک ہے جو اسلامی روایات اور تعلیمات کو مسخ کرنے کی ناپاک کوشش کررہا ہے۔

ہمارے نبی کریم حضرت محمد (ص) نے مکہ مکرمہ سے رحمت اور محبت کی آواز بلند کی اور اللہ تعالی نے انھیں رحمۃ للعالمین بنادیا اور آج اسی مکہ مکرمہ میں آنحضور کی تعلیمات کو فراموش کردیا گیا ہے اورآل سعود  ابو جہل و ابو لہب و معاویہ و ابوسفیان اور یزید کی سیرت پر عمل کرتے یمن ، فلسطین، شام ، عراق اور دیگر اسلامی ممالک میں بھیانک جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں اور یمن میں نہتے مسلمانوں کے خلاف اپنی درندگی اور بربریت کا مکمل ثبوت پیش کررہے ہیں۔ آل سعود کو اللہ تعالی کے غضب اور عذاب سے دنیا کی کوئی طاقت بچا نہیں سکتی کیونکہ ان کا ایمان اللہ تعالی کے بجائے امریکہ پر ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

2 + 14 =