بغداد میں سعودی عرب کے سفارتخانہ حملہ

سعودی عرب میں شیعہ مذہبی رہنما آیت اللہ شیخ نمر کے بہیمانہ قتل کے بعد مختلف ممالک میں شدید درعمل سامنے آرہا ہے اور ایران کے بعد عراق میں بھی سعودی عرب کے سفارتخانے پر حملہ کیا گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب میں شیعہ مذہبی رہنما آیت اللہ شیخ نمر کے بہیمانہ قتل کے بعد مختلف ممالک میں شدید درعمل سامنے آرہا ہے اور ایران کے بعد عراق میں بھی سعودی عرب کے سفارتخانے پر حملہ کیا گیا ہے۔ اطلاعات  کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں حال ہی میں دوبارہ کھلنے والے سعودی سفارتخانے پر راکٹ سے حملہ کیا گیا ہے۔ حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں تاہم سکیورٹی فورسز نے سفارتخانے کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور عراق کے درمیان 1990 کی جنگ کے بعد سے سفارتی تعلقات بند تھے اور سعودی حکومت نے 3 روز قبل ہی یکم جنوی 2016 کو بغداد میں طویل عرصے کے بعد دوبارہ اپنا سفارتخانہ کھولا تھا۔ سعودی عرب میں 2 روز قبل بے بنیاد الزام عائد کرکے شیعہ مذہبی رہنما آیت اللہ نمر سمیت 47 افراد کو سزائے موت دی تھی جس کے نتیجے میں سعودی عرب کو بین الاقوامی تنظیموں اور مختلف ممالک کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔مذہبی رہنما کو سزائے موت دینے کے معاملے پر سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات ختم ہوگئے ہیں سعودی عرب کے سفاکانہ عمل کی عالمی سطح پر شدید مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

News Code 1860820

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 0 =