داعش کے جرمنی میں گرفتار ہونے والے دہشت گرد کے لرزہ خیز انکشافات

شام میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں سرگرم وہابی دہشت گرد تنظیم داعش کے جرمنی میں گرفتار ہونے والے دہشت گرد نے لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں سرگرم وہابی دہشت گرد  تنظیم داعش کے جرمنی میں گرفتار ہونے والے دہشت گرد ہیری ایس نے لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں۔ " ہیری ایس"  نامی یہ گرد جرمنی کا شہری تھا جو شام جا کر داعش کی حمایت میں لڑتا رہا، اور اب اسے داعش کے کمانڈروں نے واپس جرمنی بھیجا اور وہاں جا کر حملے کرنے کا حکم دیا۔ دوران تفتیش ہیری ایس نے انکشاف کیا کہ  " داعش نے مجھے بھرتی ہی اس لیے کیا تھا تاکہ میں واپس آ کر جرمنی میں حملے کر سکوں۔ داعش دیگر مغربی ممالک کے شہریوں کو بڑی تعداد میں بھرتی کرکے تربیت دے رہی ہے اور انہیں واپس ان کے ممالک میں بھیج رہی ہے۔داعش کے کمانڈر ان مغربی باشندوں کو فرانس حملے جیسی تربیت دیتے ہیں اور واپسی پر اپنے ممالک میں ایسے ہی حملے کرنے کا حکم دیتے ہیں۔داعش کے کمانڈر تقریباً ہر مغربی شہری کو تربیت کے بعد اپنے ملک واپس جانے کی ہدایت کرتے ہیں۔"
ہیری ایس نے انکشاف کیا کہ  " شام میں 750جرمن دہشت گرد  تربیت لے رہے ہیں جن میں سے زیادہ تر کی تربیت مکمل ہو چکی ہے اوراب انہیں واپس بھیجنے کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔"  27سالہ ہیری ایس نے کہا کہ " جب میں شام میں تھا تو داعش کے دہشت گرد مجھے بھی لوگوں کا سرقلم کرنے کے لیے کہتے تھے لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔"  ہیری ایک سپرمارکیٹ میں ڈکیتی کے الزام میں جیل گیا تھا۔ جیل میں اس نے اسلام قبول کیا اور رہائی کے فوراً بعد اس کا واسطہ  وہابی دہشت گردوں سے پڑ گیا جنہوں نے اس کے نومسلم ہونے کا غلط فائدہ اٹھایا اور اسے غلط راستے پر ڈال دیا۔ ہیری کے مطابق یہ لوگ داعش کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے پر مامور تھے۔ انہوں نے مجھے داعش اور شام میں شرعی نظام کے متعلق بتایا اور مجھے شام جانے کے لیے تیار کیا۔
ہیری نے کہا کہ جب میں شام پہنچا تو داعش کے مظالم دیکھ کر جلد ہی سمجھ گیا کہ مجھے بیوقوف بنایا گیا ہے۔ تین ماہ بعد ہی میں نے داعش چھوڑ کر واپس آنے کا فیصلہ کیا اور شام کے شہر رقہ سے پیدل ترکی پہنچا اور پھر وہاں سے واپس جرمنی آ گیا۔ ہیری نے بتایا کہ شام میں داعش کے تربیتی کیمپ میں میرے ساتھ اور بھی 50لوگ زیرتربیت تھے۔ کمانڈر ہمیں کئی کئی گھنٹے تک دھوپ میں کھڑا رکھتے اور سارا دن سخت ٹریننگ کرواتے۔ہم میں سے جو شخص بھی ہمت ہارجاتا داعش کے کمانڈر اسے بے رحمی کے ساتھ پیٹتے تھے۔دو ماہ کی ٹریننگ کے بعد مجھے ایک سپیشل یونٹ میں شامل کر دیا گیا لیکن کبھی محاذ پر نہیں بھیجا گیا۔ جب ہیری واپس آیا تو اس کے موبائل فون میں داعش کی طرف سے لوگوں کے سرقلم کیے جانے کی ویڈیوز بھی موجود تھیں۔

News Code 1860433

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 0 =