اللہ تعالی کے نزدیک حضرت عباس (ع)  کا عظیم مقام ہے جس پر تمام شہداء رشک کرتے ہیں

حضرت عباس علیہ السلام ایمان ،شجاعت اور وفا کی بلندیوں پر فائز ہیں وہ فضل و کمال میں ، قوت اور جلالت میں اپنی مثال آپ ہیں ۔وہ اخلاص ،استحکام ،ثابت قدمی اور استقلال میں نمونہ عمل ہیں اور انسان کو بلندی اورعروج تک پہنچانے والی ہر اچھی صفت سےمزين ہیں وہ صرف ایک لشکر کے علمبر دار نہیں بلکہ مکتب شہادت کے سپہ سالار ہیں جس نے تمام دنیا کی نسل جوان کو درس اطاعت،وفاداری ،جاں نثاری اور فداکاری دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس نے تاریخ اسلام کے حوالے ے نقل کیا ہے کہ حضرت عباس بن علی علیھما السلام ایمان ،شجاعت اور وفا کی بلندیوں پر فائز ہیں وہ فضل و کمال میں ، قوت اور جلالت میں اپنی مثال آپ ہیں ۔وہ  اخلاص ،استحکام ،ثابت قدمی اور استقلال میں نمونہ عمل ہیں اور انسان کو بلندی اورعروج تک پہنچانے والی ہر اچھی صفت سےمزين ہیں وہ صرف ایک لشکر کے علمبر دار نہیں بلکہ مکتب شہادت کے سپہ سالار ہیں جس نے تمام دنیا کی نسل جوان کو درس اطاعت،وفاداری ،جاں نثاری  اور فداکاری دیا ہے۔ اگرچہ حضرت عباس (ع) کی فداکاری ، جاں نثاری اور وفاداری کو چودہ سو سال گذر چکے ہیں لیکن تاریخ عباس بن علی (ع) کے خلعت کمالات کو میلا نہیں کر پائی۔ آج حضرت عباس (ع) کا نام عباس نہیں وفا ہے، ایثار ہے اطاعت اور تسلیم ہے۔

عاشورا وہ باعظمت دن ہے جس میں کربلا والوں نے دنیا کو اخلاق، انسانیت ، صبر و تحمل ، وفا اور شہادت کا درس دیا۔ حضرت عباس (ع) بھی ان اولیاء الٰہی میں سے ایک ہیں جو ہر سالک الی اللہ کے لیے مشعل فروزاں ہیں اور ہر تشنہ ہدایت کے لیے ہادی برحق ہیں وہ نہ صرف شجاعت اور جنگ کے میدان میں نمونہ اور سرمشق ہیں۔ بلکہ ایمان اور اطاعت حق کی منزل میں، عبادت اور شب زندہ داری کے میدان میں اور علم اور معرفت کے مقام پر بھی انسان کامل ہیں۔

حضرت عباس کی ولادت با سعادت ۴ شعبان سن ۲۶ ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ عباس کی ولادت نے خانہ علی (ع)کو نور امید سے روشن کردیا۔ اس لیےکہ امیر المومنین (ع) دیکھ رہے تھے کہ کربلا پیش آنے والی ہے اور یہ بیٹا حسین کا علمبردار ہو گا۔ اور علی (ع)کا عباس فاطمہ زہرا (س) کےحسین (ع) پر قربان ہو گا۔

جب حضرت عباس نے دنیا میں قدم رکھا علی (ع) نے اس کے کانوں میں اذان و اقامت کہی۔ خدا اور رسول کا نام اس کے کانوں میں لے کر اس کی زندگی کا رشتہ توحید،رسالت اور دین کے ساتھ جوڑ دیا۔ اور اس کا نام عباس رکھ دیا۔ ولادت کے بعد ساتویں دن اسلامی رسم کو نبھاتے ہوئے ایک دنبہ ذبح کروا کر عقیقہ دیا۔ اور فقراء میں تقسیم کیا۔

امیر المومنین (ع) کبھی کبھی جناب عباس کو اپنی گود میں بٹھاتے تھے اور ان کی آستین کو پیچھے الٹ کر بوسہ دیتے تھے۔ اور آنسو بہاتے تھے۔ ایک دن انکی ماں ام البنین اس ماجرا کودیکھ رہی تھی، حضرت علی (ع) نے فرمایا: یہ ہاتھ اپنے بھائی حسین (ع) کی مدد اور اسلام کی نصرت میں کاٹے جائیں گے میں اس دن کے لیے رو رہا ہوں۔

حضرت  عباس کی ولادت سے خانۂ علی(ع) خوشی اور غمی سے مملو ہو گیا۔ خوشی اس اعتبار سے کہ عباس جیسا بیٹا گھر میں آیا ہے۔ اور غم و اندوہ اس فرزند کے آیندہ کے لیے کہ کربلا میں اس پر کیا گزرے گی۔

حضرت عباس نے علی (ع) کے گھر میں حسنین(ع) کے ساتھ تربیت حاصل کی اور عترت رسول (ع) سے درس انسانیت ،شہامت، صداقت اور اخلاق کو حاصل کیا۔

حضرت عباس نے اٹھارہ  سال کی عمر میں امام حسن (ع) کی امامت کے ابتدائی دور میں عبداللہ بن عباس کی بیٹی لبابہ کے ساتھ شادی کی۔ عبد اللہ بن عباس راوی احادیث، مفسر قرآن اور امام علی (ع) کے بہترین شاگرد تھے۔ اس خاتون کی شخصیت بھی ایک علمی گھرانے میں پروان چڑھی تھی اور بہترین علم و ادب کے زیور سے آراستہ تھیں۔ حضرت عباس کے ہاں دو بیٹے ہوئے عبید اللہ اور فضل جو بعد میں بزرگ علماء اور فضلاء میں سے شمار ہونے لگے۔ حضرت عباس (ع) کے پوتوں میں سے کچھ افراد  راویان احادیث اور اپنے زمانے کے برجستہ علماء میں سے شمار ہوتے تھے۔ یہ نور علوی جو جناب عباس کی صلب میں تھا نسل بعد نسل تجلی کرتا گیا۔ اور شمع  فروزاں بن گيا۔ حضرت عباس (ع)  مدینہ میں ہی قبیلہ بنی ہاشم میں رہتے تھے۔ اور ہمیشہ امام حسین(ع) کے شانہ بہ شانہ رہے۔ جوانی کو امام کی خدمت میں گذار دیا۔ بنی ہاشم کے درمیان آپ کا خاص رعب اور دبدبہ تھا۔ جناب عباس بنی ہاشم کے تیس جوانوں کا حلقہ بنا کر ہمیشہ ان کے ساتھ چلتے تھے۔ جو ہمیشہ امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے ساتھ ساتھ رہتے اور ہر وقت ان کا دفاع کرنے کو تیار رہتے تھے۔ اور اس رات بھی جب ولید نے معاویہ کی موت کے بعد یزید کی بیعت کے لیے امام کو دار الخلافہ میں بلایا تیس جوان جناب عباس کی حکمرانی میں امام کےساتھ دار الخلافہ تک جاتے ہیں اور امام کے حکم کے مطابق اس کے باہر امام کے حکم جہاد کا انتظار کرتے ہیں۔ تا کہ اگر ضرورت پڑے تو فورا امام کا دفاع کرنے کو حاضر ہو جائیں۔ اور وہ لوگ جو مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا گئے وہ  بھی حضرت عباس (ع) کی حکمرانی میں حرکت کر رہےتھے۔ کربلا میں حضرت عباس (ع) پروانہ کی طرح امام حسین (ع) کے ارد گرد چکر کاٹ رہے ہیں کہ کہیں سے کوئی میرے مولا کو گزند نہ پہنچا دے۔سلام ہو عباس کے کٹے ہوئے بازؤں پر۔سلام ہو عباس کی جاں نثاری اور وفاداری پر۔

ایک دن امام سجاد (ع) کی نگاہ عبید اللہ بن عباس پر پڑتی ہے انکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اوراپنے  چچا عباس کو یاد کر کے فرماتے ہیں:

رسول خدا(ص) کے لیے روز احد سے زیادہ سخت دن کوئی نہیں تھا۔ اس دن آپ  کےچچا حضرت حمزہ کو شہید کر دیا گیا۔ بابا حسین کے لیے بھی کربلا سے زیادہ سخت دن نہیں تھا اس لیے اس دن عباس کو شہید کر دیاگیا۔

اس کے بعد فرمایا: خدا رحمت کرے چچا عباس کو کہ جنہوں نے اپنے بھائی کی راہ میں ایثار اور فداکاری کی۔ اور اپنی جان کو بھی دے دیا۔ اس طریقہ سے جاں نثاری کی کہ اپنے دونوں بازو قلم کروا دیئے۔ خدا وند عالم نے انہیں بھی جعفر بن ابی طالب کی طرح دو پر عطا کئے ہیں کہ جن کے ذریعے جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں عباس کا خدا وند عالم کے ہاں ایسا عظیم مقام ہے جس پر تمام شہید روز قیامت رشک کریں گے۔

اور امام صادق (ع) نے جناب عباس کے بارے میں فرمایا: «كان عمُّنا العبّاسُ نافذ البصيره صُلب الايمانِ، جاهد مع ابي‏عبدالله(ع) وابْلي’ بلاءاً حسناً ومضي شهيداً؛ہمارے چچا عباس  نافذ البصیرت اور مستحکم ایمان کے مالک تھے امام حسین کے ساتھ رہ کر راہ خدا میں جہاد کیا اور بہترین امتحان دیا اور مقام شہادت پر فائز ہو گئے۔

News Code 1867512

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha