مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی سیکورٹی فورسز پر قاتلانہ حملے میں ملوث علی ہمتّی اور مجید نیکاندیش کو پھانسی دی گئی۔
ایرانی عدلیہ کے مطابق تفتیش اور ابتدائی کارروائی کے دوران علی ہمتّی نے تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ عدالت میں اس نے بتایا کہ 8 جنوری 2026 کو وہ مجید نیکاندیش کے ساتھ ایک سپر اسٹور پر حملے کے لیے گیا، وہاں نقصان پہنچایا اور پیٹرول بم کے ذریعے اسٹور کو آگ لگا دی۔ اس کے مطابق بعد میں انہوں نے دو بسیجی اہلکاروں کو لوگوں کے ایک گروپ کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنتے دیکھا اور دونوں نے ان پر حملہ کیا۔ ہمتّی کے بیان کے مطابق اس نے اپنے پاس موجود چاقو سے ایک بسیجی اہلکار کو پہلو میں دو مرتبہ وار کیا، جس کے بعد مجید نے اس سے چاقو لے کر دوسرے بسیجی اہلکار کو بھی دو مرتبہ زخمی کیا۔
ایرانی عدلیہ کے مطابق مجید نیکاندیش بھی احتجاج کے دوران تین پیٹرول بم اپنے ساتھ رکھے ہوئے تھا۔ اس نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ 8 اور 9 جنوری 2026 کو ہونے والے ہنگاموں میں شریک ہوا اور اس کے پاس چاقو تھا۔ اس نے ایک اسٹور پر حملے اور ہنگاموں کی ویڈیو بنا کر بیرون ملک ایک شخص کو بھیجنے کا بھی اعتراف کیا۔
نیکاندیش نے عدالتی حکام کو بتایا کہ اس نے زمین پر پڑے ایک شخص کو لات ماری، ایک بینک کو آگ لگائی اور راستے میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ اس نے مزید کہا کہ اس نے ہمتّی کے ساتھ مل کر ایک اسٹور پر حملہ کیا، وہاں سے سامان ایک گاڑی میں لادا اور اسے ہمتّی کے گھر منتقل کیا۔
نیکاندیش کے پراسیکیوٹر کے سامنے دیے گئے بیانات کے بعد اہلکاروں نے ہمتّی کے گھر کی تلاشی لی اور عدلیہ کے مطابق وہاں اسٹور کا سامان برآمد ہوا۔
ایرانی عدلیہ کے مطابق تحقیقات اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد دونوں ملزمان کے اعترافات کی بنیاد پر عدالت نے علی ہمتّی اور مجید نیکاندیش کو سزائے موت سنائی، جس پر عمل درآمد کر دیا گیا۔
آپ کا تبصرہ