مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غاصب صیہونی فورسز نے غزہ پر جارحیت کرتے ہوئے مختلف علاقوں کو جنگی اور ڈرون طیاروں سے حملہ کیا اور پولیس ہیڈکوارٹر سمیت عوامی مقامات کو نشانہ بنایا۔
واقعے کے بعد فلسطینی تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صہیونی جارحیت کی مذمت کی ہے۔
حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خلیل الحیہ، فلسطینی نیشنل انیشی ایٹو کے سربراہ مصطفی البرغوثی اور تحریک احرار فلسطین نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے تازہ حملوں اور پولیس کے اعلی کمانڈروں کی شہادت پر غاصب صیہونی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
خلیل الحیہ نے اسرائیلی حملوں کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے کہا کہ قابض حکومت کی مسلسل جارحیت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر قائم ہے اور ثالثوں کی کوششوں اور جنگ بندی کی ضمانتوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جرائم جنگ بندی کے ثالثوں اور ضامنوں کو ایک بڑی ذمہ داری کے سامنے کھڑا کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کو حملے روکنے اور جنگ بندی کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات پر مجبور کریں۔
اسلامی جہاد فلسطین نے غزہ میں اسرائیلی حملوں اور شہریوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت جنگ بندی کی تمام کوششوں، معاہدوں اور ثالثی اقدامات کو مسترد کر کے نسل کشی کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔
تنظیم کے مطابق غزہ، مغربی کنارے، جنوبی لبنان اور شام میں اسرائیلی کارروائیوں سے خطے میں عدم استحکام اور تشدد میں اضافہ ہورہا ہے۔
اسلامی جہاد نے کہا کہ اسرائیل خطے کے تمام عوام کے لیے خطرہ ہے اور علاقائی ممالک کو اس کے مقابلے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
فلسطینی نیشنل انیشی ایٹو موومنٹ کے سربراہ مصطفی البرغوثی نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی قتل عام اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی حمایت سے آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملے اس بات کی علامت ہیں کہ اسرائیلی حکومت نسل کشی، نسلی تطہیر اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی پالیسی پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی خاموشی اور بے عملی اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے لیے باعث توہین ہے، جس سے ان اداروں کی ساکھ مزید متاثر ہو رہی ہے۔
البرغوثی نے زور دیا کہ اسرائیلی جارحیت اور آبادکاروں کی دہشت گردی کے مقابلے کے لیے عالمی، عرب اور اسلامی سطح پر فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، صرف مذمتی بیانات کافی نہیں ہیں۔
انہوں نے عرب اور اسلامی ممالک سمیت عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے اسرائیلی حملوں کو روکے، جنگ کا خاتمہ یقینی بنائے اور فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کرے۔
دوسری جانب تحریک احرار فلسطین نے غزہ شہر میں پولیس اور شہری تحفظ کے مرکز پر اسرائیلی حملے کو وحشیانہ جرم قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔
تحریک نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کو نظر انداز کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں، ثالثوں اور ضامنوں کے کردار کو ناکام بنانے کی واضح علامت ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ غزہ پولیس اہلکاروں کے خلاف اسرائیلی حملوں میں اضافہ اور فلسطینی عوام کا مسلسل قتل اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ نیتن یاہو حکومت اپنے سیاسی اور انتخابی مقاصد کے حصول کے لیے فلسطینیوں کے خون کو استعمال کر رہی ہے اور شہریوں کی جانوں اور امن کی کوششوں کی کوئی پروا نہیں کرتی۔
آپ کا تبصرہ