5 اکتوبر، 2026، 3:04 PM

سعودی انٹیلی جنس کو بڑا سائبر دھچکا؛ 500 سے زائد افسران کی معلومات جاری کرنے کی دھمکی

سعودی انٹیلی جنس کو بڑا سائبر دھچکا؛ 500 سے زائد افسران کی معلومات جاری کرنے کی دھمکی

یمنی ہیکر گروپ اویس قرنی نے دعوی کیا ہے کہ وہ جلد سعودی انٹیلی جنس سروس سے وابستہ 500 سے زائد افسران کے نام، رابطہ نمبرز، پتے، عہدے اور دیگر معلومات جاری کرے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمنی ہیکر گروپ نے دعوی کیا ہے کہ وہ عنقریب سعودی سکیورٹی ادارے سے وابستہ 500 سے زائد افسران کی مکمل معلومات عوام کے لیے جاری کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق یمن کی مسلح افواج کی سائبر ڈیفنس تنظیم کی ایک شاخ سمجھے جانے والے ہیکر گروپ اویس قرنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد سعودی انٹیلی جنس سروس سے وابستہ 500 سے زائد اہلکاروں کی مکمل معلومات جاری کرے گا۔

اس گروپ نے اس کارروائی کو سعودی عرب کی بیرونی انٹیلی جنس سروس کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی معلوماتی افشا قرار دیا ہے۔ جاری کی جانے والی معلومات میں ان افسران کے حقیقی نام، موبائل فون نمبرز، گھروں کے پتے، دفاتر کے براہ راست فون نمبرز، گھریلو فون نمبرز، عہدے، زیر کارروائی فائلیں، تنظیمی تفصیلات، انتظامی ڈھانچہ اور خطے کے مختلف ممالک میں قائم آپریشنل اسٹیشنوں کی فہرست شامل ہوگی۔

اویس قرنی گروپ کے جاری کردہ بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ سعودی حکومت کے قیام کے بعد سے اس کے خلاف سب سے بڑا انٹیلی جنس دھچکا ہے۔ بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ جو حکومت اپنے سکیورٹی افسران کی معلومات تک محفوظ رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، وہ خطے کی قیادت کا دعوی کیسے کر سکتی ہے۔

انصار اللہ کی سائبر ڈیفنس تنظیم اور اویس قرنی ہیکر گروپ نے ایک روز قبل بھی ایک پیغام میں دعوی کیا تھا کہ انہوں نے سعودی انٹیلی جنس سروس کے متعدد ملازمین اور افسران سے متعلق معلومات تک رسائی حاصل کر لی ہے۔

ان دونوں سائبر گروپوں نے مزید دعوی کیا کہ مذکورہ افسران نے حالیہ مہینوں میں اسرائیلی موساد اور اپنے اماراتی اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعاون کیا ہے۔ ان کے مطابق ان افسران کے مشتبہ سفروں اور منظم آمد و رفت سے سعودی عرب کی جانب سے آنے والے ہفتوں میں نئی کارروائیوں اور منصوبوں کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔

پیغام میں سعودی شہری فہد بن ہلیل بن سبھان المطیری کے بلوچستان پاکستان کے حالیہ خفیہ سفر کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے بارے میں دعوی کیا گیا کہ وہ خطے میں موجود بعض دہشت گرد گروہوں کے سرکردہ افراد کے ساتھ ایک خفیہ اجلاس میں شرکت کے لیے بلوچستان گیا تھا۔ سائبر گروپوں نے دعوی کیا کہ انہوں نے اس اجلاس کو ابتدا سے اختتام تک ریکارڈ کیا ہے۔

News ID 1941886

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha