اہل بیت (ع) کی مثال سفینہ نوح جیسی ہے، جواس پرسوارہوگا وہی نجات پائے گا

حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اہل بیت (ع) کی مثال سفینہ نوح جیسی ہے، جواس پرسوارہوگا وہی نجات پائے گا ۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے مطابق حضرت امام رضا علیہ السلام  بتاریخ ۱۱/ ذیقعدہ ۱۵۳ ھ یوم پنجشنبہ بمقام مدینہ منورہ پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد ماجد حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے لوح محفوظ اور فرمان رسول کریم (ص) کے مطابق آپ  نام " علی "  رکھا ،آپ آل محمد (ص) کے تیسرے "علی" ہیں ۔

آپ کی کنیت ابوالحسن تھی اورآپ کے القاب صابر،زکی،ولی،رضی،وصی تھے اورمشہورترین لقب رضا تھا۔

علامہ طبرسی تحریرفرماتے ہیں کہ آپ کورضااس لیے کہتے ہیں کہ آسمان وزمین میں خداوند متعال ،رسول اکرم (ص) اورآئمہ طاہرین (ع) ،نیزتمام مخالفین وموافقین آپ سے راضی تھے۔

حضرت امام رضاعلیہ السلام سے بے شماراحادیث مروی ہیں جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:
٭ ۔شہدمیں شفاہے ،اگرکوئی شہدہدیہ کرے توواپس نہ کرو۔

 ٭ ۔ گلاب جنت کے پھولوں کا سردار ہے۔
٭ ۔ بنفشہ کاتیل سرمیں لگاناچاہئے اس کی تاثیرگرمیوں میں سرداورسردیوں میں گرم ہوتی ہے۔
٭ ۔ جوزیتون کاتیل سرمیں لگائے یاکھائے اس کے پاس چالیس دن تک شیطان نہ آئے گا۔
٭ ۔ صلہ رحم اورپڑوسیوں کے ساتھ اچھاسلوک کرنے سے مال میں زیادتی ہوتی ہے۔
٭ ۔ جمعہ کے دن روزہ رکھنا دس روزوں کے برابرہے۔
٭ ۔ شہدکھانے اوردودھ پینے سے حافظہ بڑھتاہے۔

 ٭ ۔ گوشت کھانے شفاہوتی ہے اورمرض دورہوتاہے۔
٭ ۔ کھانے کی ابتداء نمک سے کرنی چاہئے کیونکہ اس سے ستربیماریوں سے حفاظت ہوتی ہے جن میں جذام بھی ہے۔
٭ ۔ جودنیامیں زیادہ کھائے گاقیامت میں بھوکارہے گا۔
٭ ۔ اچھے اخلاق والاپیغمبراسلام کے ساتھ قیامت میں ہوگا۔

٭ ۔ جنت میں متقی اورحسن خلق والوں کی اورجہنم میں پیٹواور زناکاروں کی کثرت ہوگی۔
٭ ۔ امام حسین کے قاتل بخشے نہ جائیں گے ان کابدلہ خدالے گا۔
٭ ۔ حسن اورحسین علیہم السلام جوانان جنت کے سردارہیں اوران کے پدربزرگواران سے بہترہیں۔
٭ ۔ اہل بیت کی مثال سفینہ نوح جیسی ہے ،نجات وہی پائے گا جواس پرسوارہوگا۔
٭ ۔ حضرت فاطمہ ساق عرش پکڑکرقیامت کے دن واقعہ کربلاکافیصلہ چاہیں گی اس دن ان کے ہاتھ میں امام حسین علیہ السلام کاخون بھراپیراہن ہوگا۔

٭ ۔ سب سے پہلے جنت میں وہ شہدااورعیال دارجائیں گے جوپرہیزگارہوں گے اورسب سے پہلے جہنم میں حاکم غیرعادل اورمالدارجائیں گے

حضرت امام رضاعلیہ السلام کو حضرت امام جعفر صادق (ع) کے بعد  اپنے علم وفضل کے اظہارکے زیادہ مواقع ملے،  کیوںکہ جب تک آپ ، مامون عباسی کے پاس دارالحکومت مرومیں تشریف فرمارہے، بڑے بڑے علماء وفضلاء علوم مختلفہ میں آپ کی استعداداور فضیلت کااندازہ کرایا گیااورکچھ اسلامی علماء پرموقوف نہیں تھا بلکہ علماء یہودی ونصاری سے بھی آپ کامقابلہ کرایاگیا،مگران تمام مناظروں ومباحثوں میں ان تمام لوگوں پرآ پ کی فضیلت وفوقیت ظاہرہوئی،خودمامون بھی خلفائے عباسیہ میں سب سے زیادہ اعلم وافقہ تھا ، وہ بھی اپنی علمی صلاحیتوں کے باوجود  چاروناچارآپ کے علمی تبحر کا معترف تھا چنانچہ علامہ ابن حجرصواعق محرقہ میں لکھتے ہیں کہ آپ جلالت قدرعزت وشرافت میں معروف ومذکورہیں ،اسی وجہ سے مامون آپ کوبمنزلہ اپنی روح وجان جانتاتھا اس نے اپنی دخترکانکاح آنحضرت علیہ السلام سے کیا،اورملک ولایت میں اپناشریک گردانا، مامون برابرعلماء ادیان وفقہائے شریعت کوجناب امام رضاعلیہ السلام کے مقابلہ میں بلاتااورمناظرہ کراتا،مگرآپ ہمیشہ ان لوگوں پرغالب آتے تھے اورخود ارشادفرماتے تھے کہ میں مدینہ میں روضہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بیٹھتا،وہاں کے علمائے جب کسی علمی مسئلہ میں عاجزآجاتے توبالاتفاق میری طرف رجوع کرتےتھے اور تسلی بخش جوابات سن کر مطمئن ہوجاتے تھے۔

ابوصلت ابن صالح کہتے ہیں کہ حضرت امام علی بن موسی رضاعلیہماالسلام سے زیادہ کوئی عالم میری نظرسے نہیں گزرا ،اورمجھ پرموقوف نہیں جوکوئی آپ کی زیارت سے مشرف ہوتا تھا وہ میری طرح آپ کی اعلمیت کی گواہی دیتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر : سید ذاکر حسین جعفری

News Code 1911160

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha