پاکستانی وزیر اعظم کا مچھ کے متاثرہ خاندانوں پر بلیک میلنگ کا الزام توہین آمیز اور شرمناک

پاکستان میں اپوزیشن رہنماؤں نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ہزارہ برادری کے متاثرہ خاندانوں پر بلیک میلنگ کے الزام کو توہین آمیز اور شرمناک قراردیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ادھر عوامی حلقوں میں بھی پاکستنای وزیر اعظم کے گھٹیا بیان کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان میں اپوزیشن رہنماؤں نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ہزارہ برادری کے متاثرہ خاندانوں پر بلیک میلنگ کے الزام کو توہین آمیز اور شرمناک قراردیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ادھر عوامی حلقوں میں بھی پاکستنای وزیر اعظم کے گھٹیا بیان کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

عمران خان نے ہزارہ برادری کے خلاف ہونے والےمظالم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کہ شاید سب سے زیادہ ظلم ہزارہ برادری کے لوگوں پر ہوا، خاص طور پر گزشتہ 20 برسوں میں 11 ستمبر 2001 کے بعد ان کے اوپر دہشت گردی، ظلم اور قتل کیا گیا وہ کسی اور برادری پر نہیں ہوا۔

عمران خان نے کہا کہ مچھ میں جو ہوا ہے، ہمیں پہلے سے اندازہ تو تھا، اس واقعے کے بعد میں نے سب سے پہلے وزیر داخلہ کو بھیجا، جنہوں نے بات کی اور اس کے بعد 2 وفاقی وزرا کو وہاں بھیجا یہ بتانے کے لیے کہ یہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

عمران خان نے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے متاثرہ افراد کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کو بلیک میلنگ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ کہ کسی بھی ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کرتے ورنہ ہر کوئی بلیک میل کرے گا۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے اس گھٹیا بیان کی پاکستان بھر میں مذمت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس سانحہ کے پہلے دن ہی وزير اعظم کو کوئٹہ پہنچنا چاہیے تھا۔

News Code 1904729

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 0 =