داعش سے منسلک عمر متین خود بھی ہم جنس پرست تھا

امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر آرلینڈو  کے ہم جنس پرستوں کے کلب میں فائرنگ کرکے100 سے زائد لوگوں کو ہلاک اور زخمی کرنے والے عمر متین کے پرانے کلاس فیلو نے پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ عمر متین خود بھی ہم جنس پرست تھا اور اس نے ایک بار مجھے بھی آفر کی تھی جبکہ وہابی دہشت گرد تنظیم داعش نے عمر متین کو اپنا رکن قراردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ڈیلی پاکستان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر آرلینڈو  کے ہم جنس پرستوں کے کلب میں فائرنگ کرکے100 سے زائد لوگوں کو ہلاک اور زخمی کرنے والے عمر متین کے پرانے کلاس فیلو نے پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ عمر متین خود بھی ہم جنس پرست تھا اور اس نے ایک بار مجھے بھی آفر کی تھیبکہ وہابی دہشت گرد تنظیم داعش نے عمر متین کو اپنا رکن قراردیا ہے۔
عمر متین کے کلاس فیلو نے بتایا کہ انڈین ریور کمیونٹی کالج پولیس اکیڈمی میں عمر متین اور دیگر ہم جماعت رات کو باہر نکل جاتے تھے اور بعض اوقات ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلبوں میں بھی جاتے تھے اور اس نے مجھے بھی بڑے رومانوی انداز میں آفر کی تھی ۔ میں کئی دفعہ اس کے ساتھ ہم جنس پرستوں کے کلب گیا ہوں تاہم میں نے اس کی آفر ٹھکرادی تھی۔ 
اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے والے کلاس فیلو کو یقین ہے کہ عمر متین ہم جنس پرست تھا تاہم اس نے اس کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا تھا ۔ وہ بہت ہی برا تھا اورابتدائی دنوں میں تو اس کی وجہ سے ہم سب ہم جماعتوں کو کافی خفت اٹھانی پڑتی تھی کیونکہ وہ دوسروں کی پرواہ کیے بغیر کہیں بھی گھس جاتا تھا۔ 
لاس اینجلس ٹائمز کی رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ عمر متین فائرنگ کرنے سے پہلے ایک درجن سے زائد مرتبہ ’پلس نائٹ کلب‘ جاچکا تھا ۔ علاوہ ازیں ’پلس نائٹ کلب‘ کے کم ازکم 4 ہم جنس پرست ارکان نے عمر متین کے کلب میں آنے جانے کی تصدیق کی ہے ۔ ایک اور شخص جو ایریز کا نام استعمال کرتا ہے نے بتایا کہ لگ بھگ ایک درجن سے زائد مرتبہ عمر متین اسی کلب میں آیا ہے۔ وہ آکر ایک کونے میں بیٹھ کر شراب پیتا تھا اور کبھی کبھی بہت زیادہ شراب پی کر دوسرے لوگوں کیلئے بھی مسائل پیدا کردیتا تھا ۔ 
واضح رہے کہ امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر آرلینڈو کے ہم جنس پرستوں کے ’پلس نائٹ کلب‘ میں عمر متین نامی افغان نژاد امریکی شہری نے تین گھنٹے تک فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 50 افراد ہلاک اور 53 زخمی ہوگئے تھے وہابی دہشت گرد تنظیم داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمر متین اس کا رکن تھا عمر متین کے باپ کو بھی طالبان دہشت گردوں کا حامی بتیا جاتا ہے۔

News Code 1864755

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 13 =