سعودی عرب کا نشانہ شیعہ ہیں، داعش نہیں

روسی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ الکسی پوشکوف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب دہشت گردی کے فروغ کا سب سے بڑا مرکز ہے سعودی عرب ، داعش دہشت گردوں کے خلاف نہیں ، سعودی عرب کے نشانے پر شیعہ مسلمان ہیں سعودی عرب کے حامی بہت سے دہشت گرد گروہ شیعہ مسلمانوں کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے اسپوٹنک کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ روسی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ الکسی پوشکوف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب دہشت گردی کے فروغ کا سب سے بڑا مرکز ہے سعودی عرب ، داعش دہشت گردوں کے خلاف نہیں ، سعودی عرب کے نشانے پر شیعہ مسلمان ہیں۔

روسی اہلکار کے مطابق سعودی عرب کے اتحاد کی تشکیل کا مقصد داعش کے خلاف جنگ نہیں بلکہ اس کا مقصد عالمی سطح پر شیعہ مسلمانوں کو کچلنا ہے۔ سعودی عرب نے گذشتہ چند دنوں میں 46 ممتاز شیعہ رہنماؤں کو سفاکانہ طور پر ذبح کردیا جن میں ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ نمر بھی شامل ہیں۔

سعودی عرب نے شیخ نمر کا جرم سعودی بادشاہ کی مخالفت اور اس پر تنقید قراردیا ہے اور کسی مخالف کو تنقید یا اعتراض  کی بنا پر ذبح نہیں کیا جاتا لیکن سعودی عرب نے شیعہ مسلمانوں کو تنقید کی بنا پر سفاکانہ اور وحشیانہ طور پر قتل کیا ۔ روسی سفارتکار کے مطابق سعودی عرب کا ہدف خطے میں شیعہ مسلمانوں کو سرکوب کرنا ہے اور یمن ، سعودی عرب کے مشرقی علاقہ اس کا واضح ثبوت ہیں اس نے کہا کہ سعودی عرب کے حامی بہت سے دہشت گرد گروہ شیعہ مسلمانوں کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں۔

News Code 1860811

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha