مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ولایتی نے کہا کہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی بات کرتے ہیں جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی پر فخر کرتے ہیں، لیکن دوسری جانب امریکی سینیٹر جان کورنن ملک میں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 19 اگست 1953ء کی ایران میں ہونے والی امریکی حمایت یافتہ بغاوت کے حوالے سے کہا کہ 73 سال بعد ایک حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ خطے کے حالات بدل چکے ہیں اور اب امریکی خاندان اپنی قیادت کی پالیسیوں کے نتائج براہِ راست بھگت رہے ہیں۔
ولایتی نے کہا کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے اور ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسیوں کے اثرات خود امریکہ کے اندر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ ماضی کی پالیسیاں اب اپنے اثرات خود امریکی معاشرے پر مرتب کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں عام شہری بڑھتی مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ