اعتراض بلوؤں سے مختلف ہے/ملکی آئین سے پہلے ہمارے دین میں اعتراض کی آزادی ہے، امام جمعہ تہران

تہران کی نماز جمعہ کے خطیب نے کہا کہ اعتراض کرنے والے بلوائیوں سے مختلف ہیں، ملکی آئین بلکہ اسے سے بھی پہلے ہمارا دین اور امیر المؤمنین کی سیرت کہتی ہے کہ اعتراض کی آزادی ہے۔

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دار الحکومت تہران کی اس ہفتے کی نماز جمعہ کے خطیب آیت اللہ سید احمد خاتمی نے اپنے بیان میں ملک میں حالیہ دہشت گردی اور فسادات کے دوران بے گناہ شہریوں اور سیکورٹی فورسز کی شہادت پر افسوس کیا اور ان غیر انسانی سرگرمیوں میں ملوث دہشت گردوں اور بلوائیوں کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے تمام شہدا، خاص طور پر مدافع حرم، دفاع مقدس، ملکی سلامتی اور حالیہ فسادات کے دوران ایذہ، مشہد، اصفہان اور شیراز میں شہید ہونے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان شہدا سے کہتے ہیں کہ آپ کو شکست نہیں ہوئی بلکہ آپ جیتے ہیں۔ ہم ان عزیزوں کے اہل خانہ کو تعزیت کے ساتھ مبارک باد بھی پیش کرتے ہیں۔ آپ لوگ اپنا سر اونچا رکھیں اور فخر کے ساتھ اعلان کریں کہ ہمارا شہید ایک اسلامی نظام کی حفاظت کے لئے خدا کے دیدار کے لئے چلا گیا۔

آیت اللہ خاتمی نے بلوائیوں اور دہشت گردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگوں نے خود اپنی قبر کھودی ہے اور اس طرح کی گھناونی حرکتوں سے اپنے برے انجام کو نزدیک کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عتراض کرنے والے بلوائیوں سے مختلف ہیں، ملکی آئین بلکہ اسے سے بھی پہلے ہمارا دین اور امیر المؤمنین کی سیرت کہتی ہے کہ اعتراض کی آزادی ہے۔ اعتراض بلووں سے مختلف ہیں، کیا قرآن سوزی اعتراض ہے! بسیجی اور دینی طالب علم کو تشدد کر کے قتل کرنا اعتراض ہے! بانی انقلاب اور رہبر انقلاب کی توہین اعتراض ہے! عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا اعتراض ہے! یہ بلووے اور فساد ہیں، اعتراض نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اعتراض جائز ہے لیکن بلووے ایک لمحے کے لئے بھی جائز نہیں ہیں۔ نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ دنیا بھر کے نظاموں میں اور امریکہ اور یورپ میں بھی کہ جو ان بعض بلوائیوں کا قبلہ ہیں، مذموم ہیں۔ بلوے کہیں پر بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ یہ جو بعض افراد اصرار کر رہے ہیں کہ بلووں کو اعتراض کا نام دیں، یہ سیاسی مغالطہ آمیزی ہے، بلووں کو اعتراض نہیں کہتے۔ ان بلووں کے اندر سے دہشت گردی اور قتل پیدا ہوئے جس کا ہم نے ایذہ اور اصفہان میں مشاہدہ کیا۔ بلوائیوں نے دہشت گردی اور بے گناہوں کے قتل کی زمین ہموار کی۔

خطیب جمعہ نے اپنے بیان میں حالیہ فسادات اور بلووں کے پیچھے کارفرما پانچ مقاصد کو بیان کیا۔

انہوں نے کہا کہ پہلا ہدف تختہ الٹنا ہے جس کا وہ برملا اظہار کرتے ہیں۔ دوسرا ہدف نظام کی طاقت و اقتدار کو ختم کرنا ہے، کیونکہ اگر نظام طاقتور نہ رہے تو امن و سلامتی کو برقرار نہیں کرسکتا۔

آیت اللہ خاتمی نے مزید کہا کہ ان کا تیسرا ہدف ایران کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے۔ البتہ مغرب نے خواہ مخواہ اس بات سے امیدیں باندھی ہوئی ہیں کیونکہ ایسی بات صرف ان کے خواب و خیال میں ہے، حقیقت میں ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ انہیں صدیوں تک اس بات کو اپنے خوابوں میں دیکھتے رہنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ فسادات کے پیچھے چوتھا ہدف یہ ہے کہ ملک کی امن و امان کی صورتحال کو سبوتاژ کرنا ہے، ملک کی سلامتی پر سوالیہ نشان لگانا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جسے امریکی حکام چاہتے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ آپ کے ملک کے اندر بدامنی پھیلائیں گے۔ یہ ایک گوریلا قسم کا اور خطرناک ہدف ہے۔ اسلامی نظام کی سلامتی کو نشانہ بنایا ہوا ہے۔

آیت اللہ خاتمی نے فسادات کا پانچواں ہدف بیان کرتے ہوئے کہا کہ بلوائیوں کا پانچواں ہدف یہ ہے کہ عوام میں ناامید ایجاد کر کے انہیں مایوس کردیں۔ تاہم ہمارے عوام کی امیدیں اللہ تعالیٰ پر قائم ہیں۔ ہمارا خدا وہ ہے کہ جس ہماری قوم کے خلاف منصوبہ بندی کیے گئے اس بڑی سازش کو پندرہ منٹ پہلے برملا کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری عوام انقلاب کے ساتھ کھڑی ہے اور یہ بات ہر موقع پر ثابت بھی کی ہے۔ بلوائی ہمارے عوام نہیں ہیں، لاکھوں کی تعداد میں نکلنے والے عوام ہیں۔ کروڑوں ایرانی عوام میں سے چند لوگوں کی آوازوں کو ایرانی قوم کی آواز نہیں کہا جاسکتا، کیا لاکھوں کی تعداد میں نکلنے والے لوگوں کی آواز ایرانی عوام کی آواز نہیں ہے؟

انہوں نے زور دے کر کہا کہ عوامی آوازوں کو سنا جانا چاہئے اور تمام اکثریتی اور اقلیتی برادریوں کو ملک کے آئین کے مطابق عمل کرنا ہوگا اور ان کی باتیں سنی جانی چاہئیں۔

News Code 1913219

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha