عالمی منڈی میں مزید گیس کی فراہمی کے لیے ایران کا نقطہ نظر انسان دوستانہ ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے قطر میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم کے چھٹے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں مزید گیس کی فراہمی کے لیے ہمارا نقطہ نظر انسان دوستانہ ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے قطر میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم " جی ای سی ایف" کے چھٹے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں مزید گیس کی فراہمی کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر انسان دوستانہ ہے۔ صدر ابراہیم رئیسی نے ایرانی وفد کا گرم و والہانہ استقبال کرنے اور گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم کے چھٹے سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنے پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گیس برآمد کرنے والے ممالک کا چھٹا اجلاس اس بات کا مظہر ہے کہ گیس برآمد کرنے والے ممالک کے اندر مضبوط تعاون اور ہمبستگی پائی جاتی ہے۔ قدرتی گیس، ایک صاف اور محفوظ ایندھن ہے۔ قدرتی گیس دیگر ایندھن کی نسبت اقتصادی، تکنیکی اور ماحولیاتی فوائد پر مشتمل ہے۔ عالمی منڈی میں قدرتی گیس کی مزید فراہمی کے لیے ہمارا نقطہ نظر ایک انسانی نقطہ نظر ہے۔

گیس برآمد کرنے والے ممالک کے درمیان باہمی تعامل اور تعاون بہت ہی اہم ہے۔ اس فورم کا اہم اثاثہ رکن ممالک میں دستیاب تجربات اور تکنیکی وسائل اورعلم ہے، جو رکن ممالک کی مدد اور تعاون سے قدرتی گیس فراہم کرنے والوں اور صارفین اور عالمی معیشت کے مفادات کو پورا کر سکتا ہے۔

ایران، دنیا میں قدرتی گیس کے ذخائر کے حوالے سے ایک بڑا ملک ہے جو قدرتی گیس کی پیداوار، ترسیل اور برآمد میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

قطر کی میزبانی میں گیس برآمد کرنے والے 11 بڑے ممالک کے فورم کا اہم اجلاس آج قطر میں جاری ہے جی ای سی ایف کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ " جی ای سی ایف" کے قیام کی تجویز ایران نے پیش کی تھی اور اس کا پہلا اجلاس تہران میں منعقد ہوا اور اس کے اب تک پانچ اجلاس منعقد ہوچکے ہیں اور قطر میں چھٹا اجلاس منعقد ہورہا ہے جو اس تنظیم اور فورم کے باہمی تعاون کا مظہر ہے۔ گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم " جی ای سی ایف"  میں ایران، روس ، قطر، الجزائز،بولیویہ، مصر، استوائی گنی، لیبیا، نائجیریا، متحدہ عرب امارات، ونزویلا، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو شامل ہیں۔

News Code 1909944

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 5 =