عالمی میڈيا کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کا خیر مقدم

دنیا بھر کے میڈیا ہاؤسز نے اپنی سرخیوں میں امریکی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کا خیر مقدم کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ دنیا بھر کے میڈیا ہاؤسز نے اپنی سرخیوں میں امریکی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کا خیر مقدم کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق برطانیہ کے اخبار دی انڈیپینڈنٹ نے جو بائیڈن اور کملا ہیرس کی تصویر کے ساتھ سرخی جمائی " " امریکہ میں ایک نئی صبح کا آغاز"۔

اسی طرح ایک اور برطانوی اخبار ’دی سنڈے ٹائمز‘ نے امریکی جھنڈے میں لپٹی سیاہ فام خاتون کی جشن مناتی تصویر کے ساتھ خبر دی کہ ’خواب آلود جو نے امریکہ کو جگا دیا‘۔

اس کے علاوہ ’دی سنڈے پیپل‘ نامی اخبار نے امریکا کو دعا دیتے ہوئے سرخی جمائی ’خدا کی امریکا پر رحمت ہو‘۔ دوسری جانب جرمنی کے کاروباری اتار چڑھاؤ پر نظر رکھنے والے اخبار ’بائلڈ‘ نے ٹرمپ کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ ’باعزت طریقے سے جائیے‘۔

آسٹریلیا کے روزنامہ ’ڈیلی ٹیلی گراف‘ نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کو بیان کیا اور انہیں ایک ’طیش کی سلگتی ہوئی گیند‘ قرار دیا۔

ادھر برازیل کے بڑے میڈیا آؤٹ لیٹس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کو اپنے ملک کے معروف رہنما جیئر بولسونارو کے تناظر میں بیان کیا جنہوں نے ٹرمپ کی طرح جمہوری اداروں اور سائنسی حقائق کو مسترد کرنے کی کوشش کی۔

برازیلی اخبار نے لکھا کہ ’ٹرمپ کی شکست، تہذیوں پر حملے کی سزا ہے اور بولسونارو کے لیے سبق‘۔

اخبار کا مزید کہنا تھا کہ ’کاش برازیل کے رہنما وقت سے فائدہ اٹھالیں یا پھر ٹرمپ کی طرح مریں جنہوں نے پہلے ہی بہت دیر کردی ہے‘۔

اسپین کے اخبار ’ایل میندو‘ کا کہنا تھا کہ بائیڈن، ٹرمپ کی مقبولیت کا الوداع ہیں اور ساتھ ہی نو منتخب نائب صدر کمالا ہیرس کو ’تجدید کی علامت‘ قرار دیا۔

ادھر سوئیڈن کے سب سے بڑے رونامچے ڈیجنز نیہٹر نے اپنی رائے پر منبی سرخی جمائی جو یہ تھی کہ ’تلخ و شیریں فتح، بائیڈن کو امریکا پر مرہم رکھنے کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی‘۔

اخبار لکھتا ہے کہ ’انتخابات، ملک کے بہت منقسم ہونے کو ظاہر کرتے ہیں اور جو بائیڈن کے لیے ان اصلاحاتی پروگرام پر عمل مشکل ہوگا جن کا انہوں نے ووٹرز سے وعدہ کیا‘۔

سوئیڈن کے ایک اور اخبار نے ان لاکھوں امریکیوں کے حوالے سے خطرات سے خبردار کیا کہ جو ڈونلڈ، ٹرمپ کے خطرناک بیان پر یقین رکھتے ہیں کہ الیکشن ان سے چوری کیا گیا ہے۔ اخبار نے اپنی سرخی میں لکھا کہ ’انتخابات ختم ہوئے، لیکن تنازع جاری ہے‘۔

اس کے علاوہ ایرشر نامی اخبار نے ڈونلڈ ٹرمپ کے گالف کورس کا حوالہ دیتے ہوئے مزاحیہ سرخی جمائی کہ ’جنوبی ایرشر گالف کلب کے مالک 2020 کا صدارتی انتخاب ہار گئے‘۔

واضح رہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخاب میں 4 روز تک جاری رہنے والی غیریقینی صورتحال اور اعصاب شکن مقابلے کے بعد ڈیموکریٹک اُمیدوار جو بائیڈن مطلوبہ 270 سے زائد الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے کے بعد ملک کے 46ویں صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

News Code 1903836

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 2 =