مغربی بنگال کی اسمبلی نے بھی متنازع شہریت ترمیمی قانون کےخلاف قرارداد منظور کرلی

بھارت میں کیرالہ، راجھستان اور پنجاب کے بعد مغربی بنگال کی اسمبلی نے بھی مودی سرکار کے متنازع شہریت ترمیمی قانون کیخلاف قرارداد منظور کرلی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی میڈیا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں کیرالہ، راجھستان اور پنجاب کے بعد مغربی بنگال کی اسمبلی نے بھی مودی سرکار کے متنازع شہریت ترمیمی قانون کیخلاف قرارداد منظور کرلی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاست مغربی بنگال کی اسمبلی میں متنازع شہریت ترمیم قانون کیخلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی ہے۔ قرارداد میں وفاقی حکومت سے متنازع قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ متنازع شہریت ترمیم قانون کیخلاف قرارداد منظور کرنے والی مغربی بنگال چوتھی اسمبلی بن گئی ہے اس سے قبل راجھستان، کیرالہ اور پنجاب اسمبلیوں نے بھی اس قانون کو مسترد کردیا تھا تاہم مودی سرکار روایتی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنر جی نے اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری حکومت مذہبی منافرت پر مشتمل ایسے کسی بھی قانون پر عملدرآمد نہیں کرے گی جس سے بھارت کا سیکولر چہرہ داغدار ہوتا ہو۔ متنازع شہریت ترمیمی قانون انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی بھی ہے۔

News Code 1897367

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 1 =