امریکی صدرٹرمپ کی جانب سے کانگریس کی غیر سفید فام خواتین ارکان پر نسل پرستانہ حملہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیموکریٹک پارٹی کی 4 اقلیتی اور غیر سفید فام خواتین ارکان پر نسل پرستانہ حملے اور توہین سے ثابت ہوگيا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ میں امریکی شہریوں اور امریکی کانگریس کے ارکان کی تنقید برداشت کرنے کی بھی صلاحیت نہیں ۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیموکریٹک پارٹی کی 4 اقلیتی اور غیر سفید فام خواتین ارکان پر نسل پرستانہ حملے اور توہین سے ثابت ہوگيا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ میں امریکی شہریوں اور امریکی کانگریس کے ارکان کی تنقید برداشت کرنے کی بھی ہمت نہیں ۔ امریکی صدر ٹرمپ اس سے قبل  السلواڈور، ہیٹی اور بعض دیگر افریقی ممالک کو غیر اخلاقی الفاظ کا نشانہ بنا چکے ہیں اور اب اس نے امریکی کانگریس ک ارکان غی سفید فام خواتین کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نسل پرستی کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خواتین جن ممالک سے امریکہ آئی ہیں پہلے اپنے ممالک کی صورتحال کو ٹھیک کریں اور اس کے بعد امریکہ کو درس دیں ۔ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی رکن جن 4 خواتین پر تنقید کی تھی وہ سفید فام نہیں اور وہ ہسپانوی، فلسطینی،صومالیہ اور افریقی-امریکی نژاد ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 14 جولائی کو کانگریس کی رکن خواتین پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ  یہ خواتین دراصل ان ممالک سے تعلق رکھتی ہیں جہاں کی حکومتیں مکمل طور پر نااہل اور تباہی کا شکار ہیں اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ کرپٹ ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ  یہ خواتین بہت چالاکی سے امریکہ کے عوام جو کرہ ارض پر سب سے عظیم اور طاقتور قوم ہیں انہیں بتارہی ہیں کہ ہماری حکومت کو کیسے چلانا ہے۔

امریکی صدر نے کہا تھا کہ  یہ خواتین جہاں سے آئی ہیں وہاں واپس کیوں نہیں چلی جاتیں اور ان مکمل طور پر تباہ حال اور جرائم سے متاثرہ علاقوں کو ٹھیک کرنے میں مدد کریں اور پھر واپس آکر ہمیں بتائیں کہ یہ کیسے کیا جاتا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بیان سفید فام نسل سے تعلق نہ رکھنے والے خواتین پر تنقید کرتے ہوئے دیا تھا جن میں نیویارک کی رکن الیگزینڈریا اوکاسیو-کورٹیز،الحان عمر، مشی گن کی راشدہ طلیب اور آیانا پریسلی شامل ہیں۔

امریکی صدر کے بیان کو ڈیموکریٹک صدارتی امیدواروں اور سینئر قانون سازوں کی جانب سے نسل پرست اور غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی قرار دیا گیا تھا۔

ادھرعالمی سطح پر امریکی صدر کے نسل پرستانہ  بیان کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اس سلسلے میں امریکی ایوان نمائندگان میں مذمتی قرارداد بھی منظور کرلی گئی۔ اطلاعات کے مطابق قراردادا کے حق میں ایوان کے 435 ارکان میں سے 240 نے ووٹ دیا جبکہ 187 نے مخالفت کی۔ علاوہ ازیں ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن کے 4 اراکین نے بھی مذمتی قرار داد کے حق میں ووٹ دیا، ایک آزاد قانون ساز نے بھی ٹرمپ کے خلاف مذمتی قرار داد کی حمایت کی۔

News Code 1892235

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 11 =