ایران نے گروپ 1+4 میں امریکہ کی موجودگی کے لئے شرط عائد کردی

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ کسی راہ حل تک پہنچنے کے لئے یورپی ممالک کے ساتھ ٹیلیفون پرسرکاری اور غیر سرکاری سطح پر گفتگو کا سلسلہ جاری ہے ورنہ ہم 60 دن کے بعد تیسرے مرحلے میں عملی قدم اٹھائیں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی  نے کہا ہے کہ کسی راہ حل تک پہنچنے کے لئے یورپی ممالک کے ساتھ   ٹیلیفون پرسرکاری اور غیر سرکاری سطح پر گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔ ہم یورپی ممالک کو مزيد 60 دن کی مہلت دیں گے اوراس کے بعد تیسرے مرحلے میں عملی قدم اٹھائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے تیل کی فروخت کی مقدار مشترکہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے خارج ہونے سے پہلے کی سطح تک نہیں پہنچی ، لہذا ایران نے آج دوسرا عملی قدم آج اٹھایا ہے جو یورینیم کی افزودگی پر مشتمل ہے۔ عراقچی نے کہا کہ ہم نے پہلے قدم میں یورینیم کے ذخائر کو محدود کرنے کے سلسلے میں عائد پابندی کو اٹھا دیا جبکہ دوسرے قدم ميں ہم نے یورینیم کی افزودگی پر عائد پابندی کو ختم کردیا۔ عراقچی نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ آج یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ  فیڈریکا موگرینی کو خط ارسال کریں گے جس میں پھر یورپی ممالک کو 60 دن کی مہلت دی جائےگی، اگر انھوں نے مقررہ مدت میں اپنے وعدوں کو عملی جامہ نہ پہنایا تو ایران بھی مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی میں معاہدے پر عمل کرنا ترک کردےگا۔ عراقچی نے کہا کہ ہم امریکہ اور یورپی ممالک کے خلاف بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے بورڈ میں شکایت بھی درج کرائیں گے۔ عراقچی نے کہا کہ امریکہ گروپ 1+5  کے مذاکرات میں شریک تھا اور اس نے معاہدے پر دستخط بھی کئے لیکن بعد میں وہ معاہدے سے خارج ہوگیا ۔ وہ گروپ 1+4 میں شرکت کرسکتا ہے لیکن اگر وہ دوبارہ گروپ 1+5 کو تشکیل دینا چاہے تو اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

News Code 1891973

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 2 =