ملائشیا کا پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیدگي میں غیر جانبدار رہنے کا اعلان

ملائشیاء کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ ملائشیاء پاکستان اوربھارت کے درمیان موجودہ بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کسی ایک فریق کا ساتھ نہیں دےگا ۔

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ملائشیاء کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ ملائشیاء پاکستان اوربھارت کے درمیان موجودہ بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کسی ایک فریق کا ساتھ نہیں دےگا ۔مہاتیر محمد نے کہا کہ جنگوں سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا ، تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے ۔دہشت گردوں کو بالادستی حاصل کرنے کی اجازت دینا بہت خطرناک ہے‘ ہمیں دہشت گردوں کو روکنا چاہئے لیکن دونوں (انڈیا پاکستان) کو دہشت گردی کی کارروائیوں کا سدباب کرنا ہو گا۔ جب دہشت گرد لڑتے ہیں وہ محض انتقام لینا چاہتے ہیں۔ وہ فاتح نہیں ہو سکتے‘ وہ کیا کر سکتے ہیں‘ انسانوں کو مار سکتے ہیں‘ کیا انسانیت کا مقدر یہی ہے۔ ہم ہر دو فریق میں سے کسی کی طرفداری نہیں کرنا چاہتے مگر ہمیں ان مسائل کا ادراک ہے جس کا انہیں سامنا ہے۔ ملائیشین میڈیا ٹیم کے ایک رکن کے ڈسپیچ کے مطابق پاکستان کے تین روزہ دورے کے اختتام پر وہ میڈیا کانفرنس میں سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ تن ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ اسلامی ملکوں کا ترقی یافتہ اقوام پر حد سے زیادہ انحصار ہے جس کی وجہ سے اسلامی ملک مغربی ممالک کی غلط کاریوں کیخلاف احتجاج کرنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ اسی بناء پر اسلامی ملک مغربی ملکوں کی تابعداری کرتے ہیں۔ ہر چیز کیلئے اسلامی ملک ترقی یافتہ اقوام پر بہت ہی زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ انکی استعدادو صلاحیت محدود ہے۔ مہاتیر محمد نے یہ بات زور دیکر کہی کہ کیونکہ مغربی ممالک اسرائیل کی بھرپور حمایت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اسلامی اقوام اسرائیل کی مذمت کرنے سے بھی خوف کھاتی ہیں کہ اسرائیل کی اگر کسی مسلمان ملک نے مذمت کی تو مغربی ممالک اس پر ایکشن لیں گے۔ ملائیشیاء کے میڈیا وفد کے رکن کے مطابق مہاتیر نے کہا کہ پاکستان کے کشیدہ حالات میں پاکستان کا تین روزہ دورہ کرنا بالواسطہ طور پر یہ تاثر نہیں دیتا کہ ملائیشیانے ایک فریق کا چنائو کر لیا ہے‘ ہم کسی ایک فریق کی سائیڈ نہیں لے سکتے کیونکہ ایسا کیا جانے سے دہشت گردوں کو بالادست ہونے کی اجازت دینا ہے اور یہ بہت خطرناک ہے۔ ہمیں دونوں طرف ( ہندوستان وپاکستان) میں دہشت گردی کو لازمی طور پر روکنا چاہئے۔ دہشت گردی کے واقعات کا سدباب کرنا چاہئے۔

News Code 1889106

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 0 =