امریکہ میں سعودی ولیعہد کی یہودی انتہا پسندرہنماؤں سے ملاقات/ سعودیہ کی اسلام کے ساتھ دشمنی نمایاں ہوگئی

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دورہ امریکہ کے دوران انتہائی دائیں بازو کے یہودی اداروں کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہےیہ یہودی ادارے فلسطین میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کے لئے اربوں ڈالر کی امداد دے چکے ہیں۔ آل سعود کا یہودی چہرہ مسلمانوں کے سامنے بے نقاب ہوگیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دورہ امریکہ کے دوران انتہائی دائیں بازو کے یہودی اداروں کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہےیہ یہودی ادارے فلسطین میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کے لئے اربوں ڈالر کی امداد دے چکے ہیں۔ آل سعود کا یہودی چہرہ مسلمانوں کے سامنے بے نقاب ہوگیا۔ جن انتہا پسند یہودی اداروں کے رہنماؤں سے سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے ملاقات کی ان میں امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی، اسٹینڈ اپ فار اسرائیل (اے ڈی ایل اور جیوش فیڈریشن آف نارتھ امریکا شامل ہیں۔ یہ یہودی ادارے فلسطین میں غیر قانونی تعمیرات کے لئے اربوں  ڈالر کی امداد دے چکے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے سعودی ولی عہد کے سفرنامے کی افشاء ہونے والی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محمد بن سلمان نے امریکن جیوش آرگنائزیشن کانفرنس آف پریزیڈنٹس، یہودی سول ادارے بنائی برث اور امریکن جیوش کمیٹی کے رہنمائوں سے بھی ملاقات کی۔ اسرائیل کے حامی چند امریکی گروہ بی ڈی ایس ایکٹ کیخلاف کروڑوں ڈالر خرچ کرچکے ہیں۔ محمد بن سلمان کے اسرائيل کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات ہیں ۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے حکام کے درمیان اس سے قبل خفیہ ملاقاتوں کی خـبریں منظر عام پر آتی رہی ہیں  لیکن اب یہ ملاقاتیں آشکارا ہورہی ہیں۔اسلامی مبصرین کے مطابق سعودی عرب نے اب تک اپنے مکروہ اور بھیانک چہرے پر اسلام کی جو نقاب پہن رکھی تھی وہ اب اتر گئی ہے۔ محمد بن سلمان نے اس سے قبل کہا تھا کہ سعودی عرب نے امریکہ کے حکم پر وہابی ازم کو پھیلایا اور مسجدیں بنانے پر سرمایہ لگایا۔ اسلامی ممالک میں عدم استحکام اور دہشت گردی کے فروغ ميں سعودی عرب کا کردار اب مزید نمایاں ہوگيا ہے۔

News Code 1879703

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 6 =