وہابی دہشت گردی کا مسلم ممالک اور مسلمان سب سے زیادہ شکارہیں

دہشت گردی کا عالمی انڈیکس جاری کردیا گیا جس کے مطابق دنیا بھر میں وہابی دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار مسلمان ہیں آج وہابیت کو اسلام اور انسانیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ قراردیا جارہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق برطانوی اخبار انڈی پینڈنٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابقدہشت گردی کا عالمی انڈیکس جاری کردیا گیا جس کے مطابق دنیا بھر میں وہابی دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار مسلمان ہیں آج وہابیت کو اسلام اور انسانیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ قراردیا جارہا ہے۔ وہابی دہشت گردی کے شکار دس سرفہرست ملکوں میں مسلمان ممالک سرفہرست ہیں۔ ہلاکتوں کے اعتبار سے عراق سرفہرست رہا ۔
برطانوی اخبار کے مطابق دہشت گردی کے واقعات دنیا بھر میں بڑھ رہے ہیں جس کا نتیجہ عالمی بد امنی ، بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس ہے۔گلوبل ٹیررزم انڈیکس ظاہر کرتا ہے کہ عالمی طور پر اسی فیصد ہلاکتیں صرف پانچ ممالک میں ہوئیں۔ 2014میں دنیا بھر میں وہابی دہشت گرد حملوں میں32658افراد ہلاک ہوئے جو2013کے مقابلے میں80فی صد زیادہ تھے۔ گزشتہ سال دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ٹاپ دس میں سات مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔
برطانوی اخبار”انڈی پینڈنٹ “ کے مطابق جی ٹی آئی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2014میں دہشت گردی کی مجموعی ہلاکتوں میں 78فی صد ہلاکتیں پانچ ممالک عراق، افغانستان، نائیجیریا، پاکستان اور شام میں ہوئیں۔
گزشتہ برس دہشت گردی کی کارروائیوں میں سب سے زیادہ متاثر ملک عراق رہا۔گلوبل ٹیرررزم انڈیکس کے اعدادوشمار کے مطابق 2014میں عراق میں دہشت گردی سے9929ہلاکتیں ہوئیں۔ کسی ایک ملک میں یہ ایک سال میں سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔
160ممالک کے اعدادوشمار میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ گزشتہ برس سب سے زیادہ دہشت گردی کی کارروائیاں نائیجیریا میں ہوئیں جہاں2014میں دہشتگردی میں7512افراد مارے گئے، یہ ہلاکتیں2013کے مقابلے میں تین سو فی صد زیادہ تھیں۔نائیجیریامیں تقریباً نصف مسلمان اور نصف عیسائی ہیں۔دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ گیارہ میں دس ممالک میں مہاجرین اور اندرونی نقل مکانی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔اسلامی ذرائع کے مطابق دہشت گردانہ کارروائیوں میں صرف وہابی دہشت گردانہ نظریہ کے لوگ ملوث ہیں پاکستان میں وہابی مدارس اور اداروں سے کئی درجن وہابی دہشت گردوں گورفتار کیا گیا ہے وہابی دہشت گردوں کو سعودی عرب اور خلیجی عرب ممالک سے مالی وسائل اور امداد مل رہی ہے۔

News Code 1860429

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 4 =