سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں اقتصادی نمو سست روی کا شکار

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی کمی کے باعث خلیجی ممالک پہلے ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور اب ایک اہم عالمی ادارے نے یہ پیشنگوئی بھی کردی ہے کہ اگلے سال سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی اقتصادی نمو مزید سست روی کی شکار ہوجائے گی۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی کمی کے باعث خلیجی ممالک پہلے ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور اب ایک اہم عالمی ادارے نے یہ پیشنگوئی بھی کردی ہے کہ اگلے سال سعودی عرب اور خلیجی ممالک  کی اقتصادی نمو مزید سست روی کی شکار ہوجائے گی۔ اطلاعات کے مطابق جریدے عریبین بزنس کے مطابق ادارے فچ ریٹنگز کا کہنا ہے کہ 2016ءکے لئے گلف تعاون کونسل ممالک کی بینکوں کا منظر نامہ منفی نظر آرہا ہے کیونکہ ان ممالک کے جی ڈی پی کا تقریباً 70 فیصد براہ راست یا بالواسطہ طور پر تیل کی آمدنی پر انحصارہے۔ا گرچہ 2016ءمیں گلف تعاون کونسل کے ممالک میں مجموعی طور پر اقتصادی شرح نمو میں کمی واقع ہوگی لیکن کویت وہ واحد ملک ہے کہ جس کی معیشت میں 3.5 فیصد کے اضافے کی پیشنگوئی کی گئی ہے۔
ادارے نے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک کے طور پر سعودی عرب کانام لیا ہے، جس کی اقتصادی شرح نمو موجودہ سال میں چار فیصد تھی، مگر 2016ءمیں اس میں بڑی کمی کے بعد 1.9 فیصد پر آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیاہے۔ اسی طرح قطر کی اقتصادی شرح نمو 4.3 سے کم ہو کر 3.7 فیصد، عمان کی 3.4 فیصد سے 2.7 فیصد پر آنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہاہے۔ بحرین اور ابوظہبی میں اوسط درجے کی کمی کی پیشنگوئی کی گئی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں مجموعی طور پر اقتصادی شرح نمو میں کمی کا نتیجہ کاوباری سرگرمیوں میں کمی کی صورت میں سامنے آئے گا جس کے نتیجے میں ملازمتوں کے مواقع محدود ہونگے اور خصوصاً بیرون ملک سے ان ممالک میں کام کرنے کے لئے آنے والے افراد زیادہ متاثر ہوں گے۔

News Code 1860619

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha