ہر سال حج کے موقع پردردناک واقعات،سعودی حکام کی نااہلی کا مظہر

سعودی عرب کے حکام کی نااہلی اور غفلت کی بنا پر ہر سال حج بیت اللہ الحرام کے موقع پر دردناک اور المناک واقعات رونما ہوتے رہے ہیں رواں سال کے المناک واقعہ میں 1300 سے زائد حاجی شہید ہوگئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ستمبر 2015 : رواں سال حج کے آغاز میں ہی مسجد الحرام میں ایک کرین حاجیوں پر گرگیا جس کے نتیجے میں 110 حاجی شہید اور 400 سےزائد زخمی ہوگئے لیکن سعودی حکام نے اس کی ذمہ داری طوفانی بارش پر ڈال دی ۔جب کہ اب حج کے دوران آخری روز منیٰ میں رمی جمرات کے دوران شیطان کو کنکر مارتے ہوئے بھگدڑ مچ گئی جس میں 1300 سے زائد افراد شہید اور 2000 سے زائد زخمی ہوگئے۔ منی کا المناک سانحہ اس وقت پیش آیا جب سعودی عرب کے وزیر دفاع محمد بن سلمان منی سے گزررہے تھے اور اس کی سکیورٹی کے لئے منی کے کئي راستے بند کردیئے گئے جس کی وجہ سے یہ المناک حادثہ پیش آیا ۔

12 جنوری 2006: اس سال بھی منیٰ میں رمی کے دوران بھگدڑ مچنے سے 360 افراد شہید ہوئے جب کہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اسی سال اس واقعہ سے ایک روز قبل مکہ میں حاجیوں کےایک ہوٹل کی چھت گر گئی جس میں 73 افراد شہید اور 62 زخمی ہوگئے۔

یکم فروی 2004 : حج کے دوران یہ سال بھی حاجیوں پر بھاری ہا اور منیٰ میں ہی رمی کے دوران بھگدڑ مچنے سے 244 حاجی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔

11 فروری 2003: اس سال بھی جمرات میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ مچ جانے سے 14 حاجی جاں بحق ہوئے۔

5 مارچ 2001: اس سال بھی منیٰ میں شیطان کو کنکر مارنے کے دوران بھگدڑ مچنے سے 35 حاجی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔

9 اپریل 1998: اس سال منی میں رمی کے لیے جانے والے حاجی ایک پل کو کراس کرتے ہوئے بھگدڑ مچ جانے سے بڑی تعداد میں نیچے گر گئے جس سے 180 شہید ہوگئے جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔

15 اپریل 1997اس سال حاجیوں کی خیمہ بستی میں آگ لگنے سے 340 حاجی شہید جب کہ 1500 سے زائد زخمی ہوگئے تاہم اس کے بعد ان خیمہ بستیوں میں ایسے خیمے لگائے جانے لگے ہیں جو آگ میں محفوظ رہتے ہیں اسی لیے اس کےبعد آگ لگنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

23 مئی 1994 : اس سال منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ مچ جانے سے 270 حاجی خالق حقیقی سے جا ملے جب کہ سیکڑوں زخمی ہوئے۔

2 جولائی 1990اس سال منیٰ میں بھگدڑ مچ جانے کا سب سے بڑا حادثہ پیش آیا جس میں 1426 حاجی شہید ہوگئے اور سیکڑوں زخمی ہوئے جب کہ سانحہ میں شہید ہونے والے حاجیوں کی بڑی تعداد کا تعلق پاکستان سے تھا۔

1975 :اس سال گیس سلینڈر پھٹنے سے آتشزد گی کے باعث 200 افراد جاں بحق ہوگئے۔

رواں سال پہلا واقعہ مسجد الحرام میں پیش آیا جب مسجد الحرام میں ایک کرین حاجیوں پر گرگیا جس کے نتیجے میں 110 حاجی شہید اور 200 سےزائد زخمی ہوگئے سعودی حکام نے اس حادثے سے بھی عبرت حاصل نہیں کی اور اس سال منی میں دوسرا اور حج کی تاریخ کا المناک واقعہ رونما ہوا ہے جس میں 1300 حاجی شہید ہوگئے ہیں جن میں 130 ایرانی حاجی بھی شامل ہیں جبکہ اس دردناک حادثے میں 2000 سے زائد حاجی زخمی ہوگئے ہیں۔عرب ذرائع کے مطابق منی کا المناک سانحہ اس وقت پیش آیا جب سعودی عرب کے وزیر دفاع محمد بن سلمان منی سے گزررہے تھے اور اس کی سکیورٹی کے لئے منی کے کئي راستے بند کردیئے گئے جس کی وجہ سے یہ المناک حادثہ پیش آیا ۔ البتہ سعودی عرب کے وزیر صحت نے اس واقعہ کو قضا و قدر قراردے دیا ہے جبکہ بعض سعودی حکام اس واقعہ کا ذمہ دار افریقی حاجیوں کو بتا رہے ہیں۔ عرب ذرائع کے مطابق یہ واقعہ سعودی حکام کی نااہلی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے سعودی حکام غیراسلامی،غیر انسانی اور غیر اخلاقی حرکات کے لئےمعروف ہیں سعودی عرب کے بادشاہ سلمان  نے ایسے مہنوں میں یمن کے عوام پر جنگ مسلط کررکھی ہے جن میں اللہ تعالی نے جنگ کو حرام قراردیا ہے۔

News Code 1858389

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha