12 اکتوبر، 2026، 8:40 PM

آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی؛ طالبات کے احتجاج میں شدت

آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی؛ طالبات کے احتجاج میں شدت

جمہوریہ آذربائیجان کی حکومت کی جانب سے اسکولوں میں حجاب پر پابندی برقرار رکھنے کے اصرار کے نتیجے میں احتجاج اور متعدد اسکولوں کی طالبات اور تعلیمی عملے کی ہڑتالوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جمہوریہ آذربائیجان کے متعدد اسکولوں کے طالبات نے حجاب پہننے والی طالبات پر عائد پابندیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کلاسوں میں حاضر ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

باکو شہر کے محکمۂ تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سرکاری اسکولوں میں نئی شرائط پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کی نگرانی شروع کر دی ہے۔

ان اقدامات کو طالبات اور والدین کی تنقید کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ضوابط حجاب پہننے والی لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے کے حق کو محدود کرتے ہیں۔ جمہوریہ آذربائیجان کے آئین کے مطابق، ریاست عام اور لازمی ثانوی تعلیم مفت فراہم کیے جانے کے حق کی ضمانت دیتی ہے۔

دو اسکولوں بند اور حجاب پہننے والی معلمہ برطرف

میدان ٹی وی کی رپورٹوں اور سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ویڈیوز کے مطابق، باکو کے اسکول نمبر 69 اور ضلع ماسالی کے گاؤں مولااوبا میں واقع بی۔ شیری‌یف سیکنڈری اسکول کی طالبات نے کلاسوں میں حاضر ہونے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حجاب پہننے والی ان کی ہم جماعت طالبات کو دوبارہ اسکول آنے کی اجازت دی جائے۔

ایک اور واقعے میں، میدان ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، باکو کے رچرڈ زورگے سیکنڈری اسکول نمبر 90 میں حجاب پہننے والی ایک معلمہ کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ اس میڈیا ادارے کی جانب سے شائع کی گئی تصاویر میں طالبات کو روتے ہوئے اپنی معلمہ سے لپٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔

حجاب کی حمایت میں قید صحافی کی بھوک ہڑتال

قید صحافی پولاد اصلانوف نے بھی اسکولوں کے یونیفارم سے متعلق ان ضوابط میں تبدیلی کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے، جن کی منظوری جمہوریہ آذربائیجان کی کابینہ نے 21 ستمبر کو دی تھی۔

خبرمان نیوز ویب سائٹ کے قید مدیر نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ان پابندیوں کے خلاف جمعرات کے روز بھوک ہڑتال شروع کی۔

ان کی اہلیہ گلمیرا اصلانوا نے فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس فیصلے کا اعلان کیا اور بتایا کہ اصلانوف کو حراستی مرکز نمبر 15 میں رکھا گیا ہے۔

آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی؛ طالبات کے احتجاج میں شدت

اصلانوف نے کہا کہ بھوک ہڑتال کا مقصد حجاب پہننے والی طالبات کو اسکولوں میں آنے سے محروم کیے جانے اور حجاب پہننے والی معلمات کے لباس سے متعلق پابندیوں کی جانب عوامی توجہ مبذول کروانا ہے۔ 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے اپنے بچے کے تعلیم حاصل کرنے کے حق کو بھی محدود کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اعلان کرتا ہوں کہ میں نے اپنے بچے اور ان تمام حجاب پہننے والی طالبات کے حقوق کے دفاع کے لیے بھوک ہڑتال شروع کی ہے، جن کے تعلیم حاصل کرنے کے حق کو محدود کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح، میں ان تمام حجاب پہننے والی خواتین معلمات کے حقوق کے دفاع کے لیے بھی بھوک ہڑتال کر رہا ہوں، جنہیں تعلیم حاصل کرنے اور حجاب پہننے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

News ID 1942069

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha