8 اکتوبر، 2026، 8:48 PM

لندن اور تل ابیب کے درمیان شدید کشیدگی؛ مقبوضہ قدس میں برطانوی قونصل خانہ بند

لندن اور تل ابیب کے درمیان شدید کشیدگی؛ مقبوضہ قدس میں برطانوی قونصل خانہ بند

مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے معاملے پر برطانیہ اور غاصب صیہونی حکومت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد صیہونی حکومت کے وزیرِ خارجہ نے مقبوضہ قدس میں برطانوی قونصل خانے کی بندش کا اعلان کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے تشدد میں اضافے کے بعد غاصب صیہونی حکومت کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف برطانیہ کے اقدامات کے بعد، غاصب صیہونی وزیرِ خارجہ گدعون ساعر نے مشرقی قدس میں برطانوی قونصل خانے کی بندش کا اعلان کیا ہے۔

اس موقع پر برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے نیز اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ قدس میں برطانوی قونصل خانے کی عمارت بند نہیں کی جائے گی، بلکہ اسے ’’قدس میں برطانوی نمائندگی‘‘ کے نام سے جانا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ قونصل خانہ آزادانہ طور پر فعال رہے گا اور فلسطینیوں کو خدمات فراہم کرتا رہے گا۔

برطانوی وزیرِ خارجہ نے تاکید کی کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران قونصل خانے کے بعض ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے قدس سے انخلا کے بعد، برطانیہ اب اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ لندن نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ وہ تل ابیب کی کابینہ کی جانب سے قدس میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کے حق کو تسلیم نہیں کرتا اور یہ قونصل خانہ 200 سال سے زائد عرصے سے قدس میں سرگرم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی حکومت اپنے اس دوٹوک مؤقف پر بھی قائم ہے کہ مشرقی قدس مقبوضہ علاقوں کا حصہ ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ قدس میں برطانوی نمائندگی آزاد اور فعال ہے اور اپنی اہم خدمات کی فراہمی جاری رکھے گی۔

دریں اثنا، گدعون ساعر نے کہا کہ قدس میں برطانوی قونصل خانہ آج اپنی سرگرمیاں بند کر دے گا، برطانیہ تل ابیب کے خلاف اس نوعیت کا کوئی اقدام نہیں کرے گا اور قدس میں برطانوی قونصل خانے کا سائن بورڈ ہٹا دیا جائے گا۔

غاصب صہیونی عہدیدار نے کہا کہ ہم اس مقام تک نہیں پہنچنا چاہتے تھے، لیکن برطانوی حکومت کی پالیسیوں نے ہمیں یہاں تک پہنچا دیا ہے۔

واضح رہے لندن نے حال ہی میں مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف بڑے پیمانے پر پابندیوں کا سلسلہ شروع کیا تھا، جن کے ساتھ اسرائیل کو دفاعی سازوسامان کی برآمد کے اجازت ناموں کی معطلی میں توسیع سے متعلق اضافی پابندیاں بھی شامل تھیں۔

غاصب صیہونی حکومت کے وزیرِ خارجہ نے اعلان کیا کہ اس حکومت کی جانب سے برطانیہ کے خلاف کیے جانے والے تادیبی اقدامات میں جنوبی مقبوضہ فلسطین کے کریات گات میں واقع غزہ کے بین الاقوامی امدادی مرکز سے برطانوی نمائندوں کو نکالنا، مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی فورسز کے لیے برطانیہ کے تربیتی پروگرام روکنا اور 12 منتخب عہدیداروں، دیگر برطانوی شہریوں اور ان عہدیداروں کے داخلے پر پابندی عائد کرنا شامل ہے جو ’’یہود مخالف اور اسرائیل مخالف‘‘ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

News ID 1941972

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha